۱؎ یعنی خوش الحانی اور بہترین لہجے غمگین آواز سے تلاوت کرو اور ہر حرف کو اس کے مخرج سے صحیح اداکرو مگر گا کر تلاوت کرنا جس سے مد شد میں فرق آجائے حرام ہے۔
۲؎ اسے نسائی،ابن حبان حاکم نے بھی روایت کیا،ان میں یہ بھی ہے کہ اچھی آواز قرآن کا زیور ہے۔
حکایت:ایک بار حضرت عبداﷲ ابن مسعود کسی مجلس پر گزرے جہاں ایک گویا بہت اچھی آواز سے گا رہا تھا آپ نے فرمایا کاش یہ آواز قرآن شریف پر استعمال ہوتی یہ خبر گویے کو پہنچی اس نے سچی توبہ کی اور حضرت ابن مسعود کے ساتھ رہنے لگا حتی کہ قرآن کریم کا عالم و قاری ہوگیا۔(مرقات)