روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ میں کمزور مہاجروں کی جماعت میں بیٹھا تھا ۱؎ وہ حضرات برہنگی کے باعث بعض بعض کی آڑ لیتے تھے ۲؎ ایک قاری ہم پر تلاوت کررہے تھے۳؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہم کھڑے ہوگئے جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو قاری خاموش ہوگئے حضور نے سلام کیا ۴؎ پھر حضور نے فرمایا تم کیا کررہے تھے ۵؎ ہم نے عرض کیا ہم اﷲ کی کتاب بغور سن رہے تھے ۶؎ فرمایا شکر ہے اس خدا کا جس نے میری امت میں وہ لوگ پیدا کئے جن کے ساتھ رہنے کا مجھے حکم دیا گیا پھر ہمارے درمیان ۷؎ تشریف فرما ہوگئے تاکہ اپنے کو ہمارے برابر رکھیں ۸؎ پھر ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ یوں ہوجاؤ لوگ حلقہ بن گئے کہ سب کے چہرے حضور کے سامنے ہوگئے ۹؎ فرمایا اے فقراء مہاجرین کی جماعت تمہیں قیامت کے دن کے مکمل نور کی بشارت ہو ۱۰؎ تم جنت میں مالداروں سے آدھا دن پہلے جاؤ گے یہ آدھا دن پانچ سو سال ہیں ۱۱؎(ابو داؤد)
شرح
۱؎ یعنی صفہ والے صحابہ کے ساتھ جو تقریبًا ستر تھے جنہوں نے اپنے کو علم دین سیکھنے کے لیے وقف کردیا تھا۔ ۲؎ یعنی ان کی غریبی و افلاس کا یہ حال تھا کہ بعض کے جسم پر بقدر تن پوشی بھی پورا کپڑا نہ تھا۔تو وہ دوسرے کی آڑ میں بیٹھا تھا کہ کچھ ستر پوشی ہو جائے اﷲ اکبر۔شعر یہ وہ تھےجن سے حق کا بول بالا ہونے والا تھا یہ وہ تھے جن سے دنیا میں اجالا ہونے والا تھا ۳؎ یعنی اس جماعت میں ایک قاری تلاوت قرآن کررہے تھے باقی تمام سن رہے تھے سب یک دم نہ پڑھتے تھے کہ یہ ممنوع ہے۔ ۴؎ یعنی جب قاری خاموش ہوگیا،تب آپ نے سلام کیا،اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ کسی دینی بزرگ کی تشریف آوری پر تلاوت بند کردینا،ان کے احترام کے لیے خاموش ہوجانا بالکل جائز بلکہ سنت صحابہ ہے،بلکہ قرآن مجید بند کرکے اس کی تعظیم کو کھڑا ہوجانا بھی درست ہے۔صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب عین نماز میں کیا ہے کہ حضرت صدیق اکبر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر مصلے امامت سے پیچھے ہٹ کر مقتدی بن گئے۔دوسرے یہ کہ آنے والا بحالت تلاوت سلام یا کلام نہ کرے جب تلاوت بند ہوجائے تب سلام کرے۔تیسرے یہ کہ اگر آتے وقت سلام کا موقع نہ ہو تو بعد میں بھی آمد کا سلام کرنا جائز ہے۔ ۵؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سوال اگلی خوشخبری کی تمہید ہے،ورنہ سرکار نے ان کی تلاوت سن لی تھی اور ان کی حالت دیکھ لی تھی،جیسے رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام سے پوچھا کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے۔ ۶؎ برکت اور لذت ایمانی کے لیے تلاوت قرآن بہترین مشغلہ ہے،اﷲ نصیب کرے،اس سے انسان دنیا کے سارے غم بھول جاتا ہے یہ ہی تاثیر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پاک پڑھنے لکھنے اس کی شرح کرنے میں ہے فقیر کا تجربہ ہے۔ ۷؎ یعنی میری امت و صحابہ میں ایسے فقراء و مساکین پیدا کئے جو رب تعالٰی پر متوکل قرآن کے حامل ہیں اور مجھے حکم دیا کہ محبوب تم ان ہی غریبوں میں رہو کہ" وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ"الایہ۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی ان ہی مساکین کے سینوں میں رہتے ہیں اگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈنا ہے تو ان سینوںمیں تلاش کرو ان کے سینے رحمت کے گنجینے ہیں مدینے ہیں۔ ۸؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس میں ہم میں اس طرح بیٹھ گئے کہ ہم سب قرب میں یکساں ہوگئے نہ اونچی نشست پر جلوہ فرما ہوئے نہ ہم سے علیحدہ ہم فقراء کے زمرے میں ہم مساکین کے حلقہ میں ایسے بیٹھ گئے جیسے تاروں کے درمیان چاند قربان اس حلقہ پر یہ حلقہ ملائکہ سے افضل تھا۔ ۹؎ تاکہ سب پر حضور کی نظر رحمت یکساں پڑے یہ رب تعالٰی کے اس فرمان پر عمل تھا"وَلَا تَعْدُ عَیۡنَاکَ عَنْہُمْ"۔شعر جوہم داں ہوتے خاک گلشن،لپٹ کے قدموں سے لیتے اترن مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نامرادی کے دن لکھے تھے عام مجلسوں میں حلقہ بنانا افضل ہے،نماز و جہاد میں صف بنانا بہتر۔ ۱۰؎ معلوم ہوا کہ قیامت کے دن فقراء مسلمین کا نور مسلمان مالداروں سے زیادہ ہوگا،کیونکہ صبر کا نور شکر کے نور سے قوی تر ہے،جیسے چاند کے نور سے سورج کا نور قوی ہے۔ ۱۱؎ یعنی قیامت کا دن ایک ہزار سال کا اس کا آدھا پانچ سو سال ہوگا مالداروں کو حساب دینے میں دیر لگے گی،مگر ان فقراء سے وہ لوگ مراد ہیں جو صابر متقی ہوں،اسی وجہ سے ارشاد ہے کہ فقیر صابر،غنی شاکر سے افضل ہے،یہ گفتگو ایک درجہ کے فقراء و اغنیاء میں ہے،ورنہ غیر صحابی فقیر صحابی کے قدم کی خاک کو نہیں پہنچ سکتا،یوں ہی خلفائے راشدین تک ان کے ماتحت حضرات نہیں پہنچ سکتے لہذا عثمان و زبیر ابن عوام وغیرہم بہت اونچی شان والے ہیں کہ یہ حضرات بے حساب جنتی ہیں نہ ان کا حساب ہوگا نہ انہیں دیر لگے گی۔خیال رہے کہ قیامت کا دن ہے تو ایک ہزار سال کا،مگر کفار کو پچاس ہزار سال کا محسوس ہوگا اور بعض خاص مؤمنین کو چار رکعت نماز کی بقدر۔