| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت سعد ابن عبادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی نہیں جو قرآن پڑھ کر بھلا دے مگر وہ قیامت کے دن اﷲ تعالٰی سے کوڑھی ہو کر ملے گا ۱؎(ابوداؤد،دارمی)
شرح
۱؎ اس حدیث کی بہت شرحیں کی گئیں جن میں قوی تر یہ ہے کہ جوشخص قرآن شریف پورا یا اس کی کوئی سورۃ حفظ کرے،پھر اس کا دور چھوڑ دے،جس سے وہ بھول جائے،تو یہ شخص قیامت میں کوڑھی اٹھے گا،اس کی کوڑھ اس کے اس جرم کی ملامت ہوگی۔جس سے سب لوگ پہچان لیں گے،بعض نے فرمایا کہ اجذم سے مراد دانت گرا ہوا ہے،بعض کا خیال ہے کہ اجذم سے مراد مقطوع الدلیل ہے جو رب تعالٰی کے سامنے بول نہ سکے وغیرہ مگر پہلی تفسیر اعلیٰ ہے۔
حدیث نمبر 524
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کون سا کلام افضل ہے فرمایا جو اﷲ تعالٰی نے اپنے فرشتوں کے لیے منتخب فرمایا سبحان اﷲ وبحمدہٖ ۱؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یعنی سارے فرشتے ہمیشہ یہ پڑھا کرتے"سُبْحَانَ اﷲِ وَبِحَمْدِہٖ"اسی لیے فرشتوں نے عرض کیا تھا"نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ"فرشتوں کاہمیشہ یہ پڑھنا اﷲ تعالٰی کی تعلیم سےہے نہ کہ اپنی رائےسے۔ قرآن کریم میں ہے"لَاعِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا"یعنی یہ کلمات بہت افضل ہیں کیونکہ یہ فرشتوں کا ذکر ہے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ان فرشتوں کی عبادات کو بھی جانتے ہیں اور ان کے حالات سے بھی خبردار ہیں جو آسمانوں میں رہتے ہیں عرشی ہوں یا کرسی والے لہذا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو فرش والے انسانوں کے اعمال کی بھی یقینًا خبرہے۔دوسرے یہ کہ جو وردو وظیفے بزرگوں سے منقول ہوں وہ دوسرے وظیفوں سے افضل ہیں،دیکھو فرشتوں کے وظیفے افضل قرار دیا گیا،ایک اعتبار سے فرشتے عام انسانوں سے افضل ہیں۔اگرچہ انسانیت ماہیۃً فرشتہ سے افضل ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ"۔