| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کہ آپ منبر پر تھے میرے سامنے تلاوت کرو ۱؎ میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے سامنے کیا پڑھوں آپ پر ہی تو قرآن اترا ہے ۲؎ فرمایا میں چاہتا ہوں کہ دوسرے سے سنوں۳؎ میں نے سورۂ نساء پڑھی حتی کہ میں اس آیت پر پہنچ گیا کہ کیا ہوگا جب ہم ہر امت سے گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنائیں گے ۴؎ فرمایا اب بس کرو میں نے آپ کو دیکھا تو آپ کی آنکھیں اشک بارتھیں۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی تم قرآن پڑھو میں سنو۔شعر خوشترآں باشد کہ سر دلبراں گفتہ آید از حدیث دیگراں معلوم ہوا کہ قرآن شریف پڑھنا،پڑھوانا،سننا،سنانا سب عبادت اور سنت رسول ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پڑھوانا نہ تو تعلیم کی لیے تھا نہ اصلاح کے لیے بلکہ صرف سننے کے لیے تھا۔ ۲؎ یعنی حضور آپ کو تو حضرت جبریل قرآن سناتے ہیں تو میری کیا حقیقت ہے،یا قرآن کریم حکمت ہے حضور حکیم ہیں،جنہیں اﷲ عزیز حکیم نے سکھایا،حکمت حکیم کے منہ سے سجتی ہے،میرا حضور کے سامنے پڑھنے کا حوصلہ نہیں پڑتا۔ ۳؎ کیونکہ قرآن پڑھنا بھی عبادت ہے اور دوسرے سے پڑھواکر سننا بھی، پہلی عبادت تو ہم کرتے رہتے ہیں،آج چاہتے ہیں کہ دوسری عبادت بھی ادا کریں،عرب شریف میں اب بھی دستور ہے کہ جہاں چند احباب جمع ہوتے ہیں تو وہاں ایک دوسرے سے قرآن شریف سنتے ہیں،یہ اس حدیث پر عمل ہے۔ ۴؎ یعنی اے محبوب قیامت کے دن ان کفار کا کیا بنے گا جب کہ ان کے انبیاء ان کے خلاف گواہی دیں گے اور اے محبوب تم ان تمام انبیاء کی تائیدی گواہی دو گے کہ مولیٰ یہ سارے انبیاء سچے ہیں ان کی قوموں نے واقعی بہت سرکشی کی تھی اپنے نبیوں کی بات نہ مانی تھی،اس آیت کریمہ کی نفیس تفسیر ہماری کتاب "شان حبیب الرحمان"اور "تفسیرنعیمی"میں ملاحظہ کرو۔ ۵؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی یا تو ہیبت الٰہی سے قیامت کے اس مقدمہ کے تصور سے یا اپنی امت پر رحمت کی وجہ سے۔مرقات نے فرمایا کہ اس آیت پر بعض لوگ بے ہوش ہوگئے اور بعض حضرات مر بھی گئے۔معلوم ہوا کہ قرآن شریف پڑھ کر یا سن کر رونا سنت ہے بشرطیکہ بناوٹ سے نہ ہو۔بیہقی شریف میں ہے کہ قرآن کریم غم و رنج لیے ہوئے آیا ہے،اس لیے تم اس کی تلاوت پر روؤ(مرقات)