Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
421 - 5479
حدیث نمبر 421
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی ابن کعب سے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ۱؎ عرض کیا کہ اﷲ نے میرا نام لیا فرمایا ہاں عرض کیا کیا رب العٰلمین کی بارگاہ میں میرا ذکر ہوا ۲؎ فرمایا ہاں تو آپ کی آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے ۳؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ مجھے ا ﷲ نے حکم دیا کہ تم پر"لم یکن الذین کفروا" تلاوت کروں عرض کیا گیا رب تعالٰی نے میرا نام لیا فرمایا ہاں ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس طرح کہ قرآن کریم کی بعض آیتیں یا سورتیں خصوصیت سے تم کو سناؤں اگرچہ عمومًا ہر مسلمان کو سنانا احکام بتاناہمارا تبلیغی فریضہ ہے۔معلوم ہوا کہ کسی خاص شخص کو قرآن پاک سنانا بھی سنت ہے۔

 ۲؎ یہ سوال تعجب کے لیے ہے کہ کیا مجھ جیسے عاجز مسلمان کا نام بھی رب تعالٰی نے آپ کے سامنے عزت کے ساتھ لیا۔کیا میں ایسا خوش نصیب انسان ہوں سوال کے بہت مقصد ہوتے ہیں ایک تعجب بھی ہے۔

 ۳؎ یہ رونا انتہائی خوشی کا تھا اور اس اندیشہ کی بنا پر تھا کہ میں عاجز انسان اتنی بڑی نعمت کا شکریہ کس طرح ادا کرسکوں گا ۔حضرت ابی ابن کعب نے قرآن سیکھنے میں بڑی محنت کی تھی حتی کہ آپ تمام صحابہ میں بڑے پائے کے قاری تھے اسی بنا پر رب تعالٰی نے فرمایا کہ اے محبوب چونکہ دنیا ان سے قرأت سیکھے گی لہذا آپ خصوصیت سے انہیں قرأت سنائیں آپ میرے شاگرد اعلیٰ ہیں یہ آپ کے شاگرد رشید ہوں۔

 ۴؎ خصوصیت سے یہ سورہ تلاوت فرمانے کی یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ حضرت ابی ابن کعب علمائے یہود سے تھے اور اس سورۃ میں علمائے اہل کتاب کا ذکر ہے اس کے سننے سے ان کا ایمان اور بھی قوی ہوگا،اس حدیث سے حضرت ابی ابن کعب کی عظمت کا پتہ لگا۔یہ بھی معلوم ہوا کہ افضل مفضول کو مفضول افضل کو قرآن کریم سکھائے۔
Flag Counter