۱؎ یتغن یا تو غناءٌ سے بنا ہے بمعنی خوش الحانی اور اچھے لہجے سے پڑھنا یا غناسے بنا بمعنی بے پرواہی بے نیازی یعنی جوشخص قرآن شریف خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہمارے طریقہ سے خارج ہے ۔معلوم ہوا کہ بری آواز والا بھی بقدر طاقت عمدگی سے قرآن شریف پڑھے کہ خوش آواز ہی قرآن کریم کا زیور ہے،جس سے تلاوت میں کشش پیدا ہوتی ہے لوگوں کے دل مائل ہوتے ہیں۔اس لیے یہ تبلیغ کا ذریعہ ہے یا جسے اﷲ قرآن کا علم دے اور وہ لوگوں سے بے نیاز نہ ہوجائے بلکہ اپنے کو ان کا محتاج سمجھے وہ ہمارے طریقہ یا ہماری جماعت سے خارج ہے عالم صرف اﷲ رسول کا محتاج ہے اور باقی مخلوق عالم دین کی حاجت مند ہے،اس لیے معلوم ہوا کہ قرآن پڑھ کر بھیک مانگنا یا علما کا مالداروں کے دروازوں پر ذلت سے جانا ممنوع ہے،اﷲ تعالٰی علمائے دین کو کفایت بھی دے قناعت بھی۔(ازلمعات)