۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں نبی کریم سے مراد تمام انبیائے کرام ہیں اور قرآن سے مراد تمام آسمانی کتابیں اورصحیفے ہیں یعنی اﷲ تعالٰی نے اپنے نبیوں کو جس قدر تاکیدی حکم اس کا دیا کہ اپنی کتب آسمانی خوش الحانی سے پڑھیں اتنا تاکیدی حکم اور دوسری چیزوں کا نہ دیا اورممکن ہے کہ نبی سے مراد حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور قرآن سے مراد یہ ہی قرآن شریف ہویعنی اﷲ تعالٰی نے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو جیسا تاکیدی حکم یہ دیا کہ قرآن کریم خوش الحانی سے تلاوت کریں اتنا تاکیدی حکم دوسرا نہ دیا کیونکہ خوش الحانی قرآن کریم کی زینت ہے جس سے قرآن کا حسن اور بھی بڑھ جاتاہے۔