۱؎ یعنی کیا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آہستہ تلاوت فرماتے تھے،ٹھہرٹھہر کر یا جلدی اور تیزی سے تاکہ ہم بھی اسی طرح تلاوت کیا کریں۔معلوم ہوا کہ تلاوت قرآن کریم میں بھی سنت کا لحاظ رکھے ۔کوشش کرے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تلاوت کرے کیونکہ طریقہ تلاوت بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو رب تعالٰی ہی نے سکھایاہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ عَلَیۡنَا جَمْعَہٗ وَ قُرْاٰنَہٗ"۔
۲؎ یہاں مد سے مراد اصلی وطبعی مد ہے کہ اگر الف،ی واو ساکن کو قدرے کھینچ کر نہ پڑھا جائے تو یہ حروف ادا نہیں ہوتے بلکہ زبر،زیر،پیش بن جاتے ہیں اسے مد اصلی کہتے ہیں ایک مد فرعی ہوتا ہے جس کے سبب دو ہیں یا تو ان ہی حروف یعنی الف ی و کے بعد ہمزہ آجائے یا حرف ساکن خواہ مشدد ہو یا غیر مشدد،تو انہیں کھینچ کر پڑھنا پڑتا ہے جیسے لام،میم،نون،کے الف ی واؤ یا دواب یا ضالین کے آ۔یا اسرائیل کا الف ہمزہ خواہ ایک ہی کلمہ میں ان حروف کے بعد واقعی ہو جیسے السّماءُ،السُّوْءُ،جَیئَ یا دوسرے کلمہ میں جیسے مآ انزل،قالو امنا وغیرہ مدّ کی پوری تحقیق کتب تجویز میں ملاحظہ فرمایئے۔