| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت جندب ابن عبداﷲ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تک تمہارا دل لگے قرآن پڑھتے رہو ۱؎ پھر جب ادھر ادھر ہونے لگو تو اس سے اٹھ جاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ قاعدہ ان خوش نصیب لوگوں کے لیے ہے جن کو قرآن شریف کی تلاوت میں لذت اور حضور قلب میسر ہوتا ہے اور کبھی زیادہ تلاوت کی وجہ سے دل اکتا جاتا ہے،وہ دل لگنے تک پڑھتے رہیں مگر وہ شخص جس کا دل تلاوت میں لگتا ہی نہ ہو وہ دل کو مجبور کرکے تلاوت کرے دل نہ لگنے کے عذر سے تلاوت چھوڑ نہ دے پہلے کچھ دن دل پر جبر کرنا پڑے گا پھر ان شاءاﷲ دل لگنے لگے گا جیسا کہ تجربہ ہے۔ ۲؎ یعنی کچھ دیر کے لیے تلاوت بند کردو حتی کہ وہ حالت جاتی رہے تمام عبادات کا یہی حال ہے کہ دل لگاکر ادا کرو۔