| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن والے کی مثال بندھے اونٹ والے کی سی ہے اگر اس کی نگہبانی کرے گا تو اسے روک لے گا اور اگر چھوڑ دے گا تو بھاگ جائے گا ۱؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی اونٹ تو مضبوط رسی سے کھونٹے پر رہتا ہے اور قرآن شریف ہمیشہ دور کرنے اور تکرار کرتے رہنے سے ذہن میں ٹھہرتا ہے،پھر جیسے اونٹ اگر ٹھہر جائے تو بڑے فائدے پہنچاتا ہے،سواری،باربرداری، گوشت، دودھ،نسل،اون وغیرہ سب ہی دیتا ہے ایسے ہی قرآن اگر ذہن میں ٹھہر جائے تو ایمان،عرفان رضائے رحمان وغیرہ سب کچھ اسی سے میسر ہوتے ہیں۔