Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
413 - 5479
حدیث نمبر 413
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کا یہ کہنا برا ہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا بلکہ وہ بھلادیا گیا ۱؎ اور قرآن یادکرتے رہو کیونکہ قرآن لوگوں کے سینوں سے وحشی جانور سے بھی زیادہ بھاگ جانے والا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)اورمسلم نے یہ زیادہ کیا کہ اپنی رسی سے۔
شرح
۱؎ یعنی اگر کسی شخص کو قرآن شریف یا کوئی یاد کی ہوئی سورۃ یا آیت یاد نہ رہے،تو یہ نہ کہے کہ میں بھول گیا کیونکہ اس میں اپنے گناہ کا اعلان ہے اور قرآن شریف کی بے ادبی،اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ میں نے قرآن شریف سے لاپرواہی برتی کہ اسے چھوڑ دیا،اسی لیے بھول گیا،یہ عیب کفار کا ہے"اَتَتْکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیۡتَہَا وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنۡسٰی"بلکہ یوں کہے کہ مجھ رب تعالٰی کی طرف سے بھلا دیا گیا،اس کلام میں اظہار حسرت ہے یعنی ہائے افسوس میں اس نعمت سے محروم کردیا گیا۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"مَا نَنۡسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنْہَاۤ"۔بجائے اعلان گناہ کے اظہار حسرت کرے کہ اعلان گناہ بھی گناہ ہے اور اظہار حسرت ثواب۔خیال رہے کہ یہ حکم استحبابی ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ارشا دہوا"رجل اُوتی ایۃً فَنَسِیَہَا"یا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو ایک آیت کی تلاوت کرتے سنا تو فرمایا"لَقَدْ اَذْکَرَنِیْ اٰیَۃً کُنْتُ اسْقَطْتُھَا"۔اس جملے کی اور کئی شرحیں کی گئی ہیں مگر یہ شرح بہترین ہے۔

۲؎  یعنی جیسے شکاری جانور کا وطن جنگل ہے وہ تمہاری قید میں جب تک ہی رہے گا جب تک کہ تم اس کی نگرانی رکھو،یوں ہی قرآن کریم کا وطن عالم بالا ہے وہ تمہارے ذہنوں میں جب تک ہی محفوظ رہے گا جب تک کہ تم اس کی نگہبانی کرتے رہو ورنہ یہ چڑیا اس پنجرے سے اڑ جائے گی۔یہ تجربہ بھی ہے کہ بڑے سے بڑا حافظ یا عالم اگر کچھ دن یہ مشغلہ نہ رکھے تو بھول جاتا ہے اسی لیے علامہ شامی نے فرمایا کہ قاضی کو کچھ روز بعد کتب بینی کے لیے چھٹی دی جائے تاکہ علم قرآن شریف بھول نہ جائے۔
Flag Counter