Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
412 - 5479
باب 

باب آدابِ تلاوت ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں صرف باب ہے یعنی قرآن کریم کے متعلق متفرق مسائل کا باب اور بعض نسخوں میں"باب اداب التلاوۃ"ہے اوربعض نسخوں میں ہے"باب اداب التلاوۃ ودرس القرآن"۔(اشعہ)
حدیث نمبر 412
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی نگرانی رکھو ۱؎ اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ قرآن ر سی میں بندھے اونٹ سے زیادہ بھاگ جانے والا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ تعاھد عہد سے بنا،بمعنی حفاظت و نگرانی ومضبوط وعدے کو بھی اسی لیے عہد کہتے ہیں کہ اس کی حفاظت کی جاتی ہے،قرآن شریف کی نگرانی کرنے سے مراد ہے اس کا دورکرتے رہنا،اس کی تلاوت کی عادت ڈالنا،خصوصًا حافظ صاحبان کے لیے ظاہر یہ ہے کہ قرآن سے مراد الفاظ قرآن،معانی قرآن  علوم قرآن اور مسائل قرآن سب ہی ہے یعنی حفاظ اپنے حفظ کی،قاری صاحبان تجوید کی،علماءعلوم قرآنیہ کی تجدید و تکرار کرتے رہیں،ورنہ بھول جانے کا اندیشہ ہے۔

۲؎  عقل عین وقاف کے پیش سے ہے عقال کی جمع،بمعنی رسی جس سے جانور باندھا جاوے،یہاں فی بمعنی من ہے یعنی جیسے اونٹ کو باندھنے کے باوجود اس سے غافل نہیں ہوتے اسی لیے قرآن شریف حفظ کرنے کے باوجود اپنے یاد پر اعتماد نہ کرو،یہ بہت جلد بھول جاتاہے کیوں نہ ہو کہ کلام الٰہی قدیم اور ہم حادث، ہم کو اس سے نسبت ہی کیا ہے یہ رب تعالٰی کی مہربانی ہے کہ ہم اسے سیکھ لیتے ہیں اور یہ ہمارے ذہنوں میں سما جاتا ہے تو ہماری ذرا سی غفلت اور لاپرواہی سے یہ نعمت ہم سے جاتی رہے گی پان والے ہمیشہ پان کے ڈھیر کو لوٹتے پلٹے رہتے ہیں،تو قرآن والے ہمیشہ اس کی لوٹ و پلٹ رکھیں۔
Flag Counter