۱؎ یعنی حضرت ربیعہ ابن ابی عبدالرحمن نے جو بڑے مشہور تابعی ہیں جن کا لقب ربیعہ رائے ہے بہت سے صحابہ سے یہ حدیث نقل فرمائی۔
۲؎ بلال ابن حارث صحابی ہیں،مزنیہ کے وفد میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر اسلام لائے،اسی۸۰ سال عمر پائی، ۶۰ھ میں وفات ہوئی۔
۳؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بلال کو مقام فرع کے پاس جو مکہ و مدینہ منورہ کے درمیان ایک جگہ ہے مدینہ منورہ سے پانچ منزل پر ہے وہاں نمک کی کانیں تھیں عطا فرمائیں بطریق معانی جاگیر کہ وہاں سے سونا چاندی نکالیں اور اپنا گزارہ کریں،قیل بھی ایک جگہ کا نام ہے۔معلوم ہوا کہ بادشاہ اسلام کسی کو کوئی زمین بطور جاگیر دے سکتا ہے۔
۴؎ یعنی کان سے نکلنے والی دھات میں پانچواں حصہ واجب ہوتا ہے(خمس)مگر ان کانوں کے سونے چاندی میں خمس واجب نہیں ہوا بلکہ زکوۃ یعنی چالیسواں حصہ واجب ہوا۔خیال رہے کہ حضرت امام شافعی کے ہاں جاگیر کی کان سے جو برآمد ہو اس میں چالیسواں حصہ واجب ہے مگر امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک خمس ہی واجب ہے۔ امام شافعی کی دلیل یہ حدیث ہے،حضرت امام اعظم کی دلیل وہ گزشتہ حدیث کہ"وفی الرکاز الخمس"یہ حدیث منقطع ہے لہذا اس سے دلیل نہیں پکڑ ی جاسکتی۔(مرقات)یا یہ حضرت بلال کی خصوصیات میں سے ہے۔