Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
39 - 5479
حدیث نمبر 39
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ اس مال کی زکوۃ دیں جو تجارت کے لیے رکھتے ہیں ۱؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی سونے چاندی میں تو بہرحال زکوۃ ہے تجارت کے لیے ہو یا پہننے کے لیے یا کسی اور مقصد کے لیے مگر ان دونوں کے علاوہ دوسرے مالوں میں زکوۃ جب ہوگی کہ تجارت کے لیے ہوں اس قاعدہ کلیہ میں تمام مال داخل ہیں حتی کہ کپڑے،زمین،غلہ،جانور بھی۔خیال رہے کہ جانوروں میں سائمہ کی زکوۃ اور ہے تجارتی کی زکوۃ کچھ اور،سائمہ کی زکوۃ تو وہ ہے جو پہلے ذکر ہوئی کہ پانچ اونٹ میں ایک بکری،دس میں دو الخ،مگر تجارتی اونٹ میں قیمت اگر دو سو درہم تک پہنچے تو چالیسواں حصہ،اسی طرح پیداوار کی زکوۃ اور ہے مگر دانہ،پھلوں کی زکوۃ کچھ اور۔پیداوار کی زکوۃ بیان ہوچکی کہ تھوڑی یا بہت زکوۃ واجب ہے دسواں یا بیسواں حصہ مگر ان کی تجارتی زکوۃ چالیسواں حصہ ہوئی جب کہ دوسو درہم کو پہنچیں لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف نہیں کہ یہاں تجارتی زکوۃ مراد ہے۔
Flag Counter