Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
41 - 5479
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 41
روایت ہے حضرت علی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ تو سبزیوں میں زکوۃ  ۱؎ ہے اور نہ عرایا(عاریۃً)میں۲؎  اور نہ پانچ وسق سے کم میں زکوۃ ۳؎ ہے نہ کام کاج کے جانور میں زکوۃ ہے۴؎ اور نہ پیشانیوں میں،امام صقر نے فرمایا کہ پیشانی سے مراد گھوڑے اور خچر اور غلام ہیں۵؎(دارقطنی)
شرح
۱؎ امام اعظم کے نزدیک سبزیوں میں عشر یا بیسواں حصہ ہے،صاحبین کے ہاں نہیں،یہ حدیث صاحبین کی دلیل ہے،امام اعظم قدس سرہ کے ہاں اس سے زکوۃ تجارت مراد ہے،اس کی بحث پہلے ہوچکی۔سبزیوں سے مراد تمام نہ ٹھہرنے والی چیزیں ہیں جیسے ترکاریاں،پھول،بینگن،کدو وغیرہ۔

۲؎ عرایا یا عریہ کی جمع ہے۔عریہ وہ درخت ہے جوکسی کو ایک دو فصلوں کے لیے عاریۃً دے دیا جاوے کہ وہ اس کے پھل کھایاکرے،اصل درخت مالک کا ہو،کبھی کسی سے خشک کھجوریں لےکر اس کے عوض درخت کی کھجوریں دے دیتے ہیں اسے بھی عریہ کہا جاتاہے۔اس کی پوری بحث کتاب البیوع میں ہوگی ان شاءاﷲ۔

۳؎  اس کی بحث پہلے ہو چکی کہ امام اعظم کے نزدیک یہاں زکوۃ سے تجارتی زکوۃ مراد ہے،چونکہ اس زمانہ میں ایک وسق چالیس درہم کا ہوتا تھا تو پانچ وسق دوسو درہم کے ہوئے اس لیے یہ ارشاد ہوا ورنہ پیداوار کی زکوۃ ہر تھوڑی بہت پر ہوگی۔دلائل اسی باب میں ابھی کچھ پہلے عرض کئے گئے۔

۴؎  یعنی کام کاج کے اونٹ گایوں وغیرہ میں زکوۃ نہیں کیونکہ یہ تجارتی مال نہیں اسی طرح علوفہ یعنی گھر کا چارہ کھانے والے جانوروں میں زکوۃ واجب نہیں،یہ مسئلہ بھی پہلے گزر چکا۔

۵؎  کہ جب یہ تجارت کے لیے نہ ہوں خدمت کے لیے ہوں تو ان میں زکوۃ نہیں،ہاں اس غلام کا فطرہ آقا پر واجب ہوگا۔
Flag Counter