Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
398 - 5479
حدیث نمبر 398
روایت ہے حضرت جبیر ابن نفیر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اﷲ تعالٰی نے سورہ بقرہ کو ان دو آیتوں پر ختم فرمایا ہے ۱؎ جو مجھے اس کے عرشی خزانہ سے عطا ہوئیں لہذا انہیں سیکھو اور اپنی عورتوں کو سکھاؤ ۲؎ کہ یہ نماز اور باعث قرب الٰہی و دعا ہیں ۳؎(دارمی)مرسلًا ۴؎
شرح
۱؎ یعنی امن الرسول سے آخر سورۃ تک کی دو آیتیں عرشی خزانوں میں سے ہیں،خزانوں سے مراد رحمت کے معنوی خزانہ ہیں۔

۲؎ یعنی ان دونوں آیتوں کا ایک ایک کلمہ سیکھو اور سکھاؤ اسی لیے ھن جمع مونث ارشاد ہوا ورنہ دو آیتوں کے لیے ضمیر تثنیہ آنی چاہئیے تھی رب تعالٰی فرماتاہے:"ہٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوۡا"اور فرماتاہے:"وَ اِنۡ طَآئِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اقْتَتَلُوۡا"الخ۔عورتوں کا ذکر خصوصیت سے اس لیے فرمایا کہ بمقابلہ مردوں کے عورتیں گناہ زیادہ کرلیتی ہی اس لیے یہ دوزخی زیادہ ہیں یعنی یہ دو آیتیں اپنے سارے گھر والوں کو سکھاؤ کہ ان کے سکھانے سے چھوٹے بچے جلد سیکھ جائیں گے کہ بچوں کا پہلا مکتب ماں کی گود ہے۔

 ۳؎ صلوۃ سے مراد یا تو استغفار ہے جیسے"اِنَّ اللہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ"میں فرشتوں کی صلوٰۃ سے مراد ہے استغفار یا یہ مطلب ہے کہ نماز میں تلاوت کی جانے والی آیتیں ہیں۔مطلب یہ ہے کہ نماز یا خارج نماز ان آیات کے پڑھنے میں بہت فائدے ہیں ان میں دعاء بھی ہے قربت الٰہی بھی استغفار بھی اور ان سے نماز بھی ہوتی ہے کہ ان میں غفرانك بھی ہے اور والیک المصیر بھی یا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے قرب کا ذریعہ ہے ایسی جامعیت دوسری آیات میں کم ہے معلوم ہوا کہ آیات کے فضائل کبھی ا ن کے مضامین کی اہمیت کی وجہ سے بھی ہوتے ہیں۔

۴؎ کیونکہ جیبر ابن نفیر تابعی ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یوں ارشاد فرمایا کہ صحابی کا ذکر نہ آیا،حاکم نے حضرت ابوذر سے مرفوعا ً روایت کی تھوڑے فرق سے۔(مرقات)
Flag Counter