۱؎ یہ حدیث اگرچہ حضرت عثمان پر موقوف ہے مگر مرفوع کے حکم میں ہےکیونکہ قرآنی سورتوں کے فضائل عقل سے نہیں معلوم ہوسکتے صرف حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان شریف سے ہی معلوم ہوسکتے ہیں آخر آل عمران سے مراد آیت"اِنَّ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ"سے آخر تک ہے حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم یہ آیت تہجد کے لیے اٹھتے وقت بھی پڑھتے ہیں۔آسمان کے تاروں کو ملاحظہ فرماتے جاتے اور آیات پڑھتے جاتے ۔بہتر یہ ہے کہ تہجد کے وقت اٹھنے پربھی پڑھے اور نماز تہجد میں بھی مطلب یہ ہے کہ جو کوئی یہ آیتیں رات کے کسی حصہ میں خصوصًا تہجد میں پڑھتے تو اسے تمام رات نوافل پڑھنے کا ثواب ملے گا،سبحان اﷲ! رب تعالٰی کی عطا ہمارے خیال سے وراء ہے۔