| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے انہی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور انور نے فرمایا جو اپنے بستر پر سونا چاہے ۱؎ تو داہنی کروٹ پر لیٹے ۲؎ پھر سو بار"قل ھو اﷲ احد"پڑھ لے۳؎ تو جب قیامت کا دن ہوگا رب تعالٰی فرمائے گا اے میرے بندے اپنی داہنی طرف سے جنت میں جا ۴؎ ترمذی اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے ۵؎
شرح
۱؎ بستر کا ذکر اتفاق ہے اگر کوئی زمین پر بھی لیٹے تو یہ پڑھ لے مگر لیٹنا سونے کے لیے ہو ویسے لیٹنے کا حکم نہیں اس لیے اس سید الفصحاء صلی اللہ علیہ و سلم نے سونے کے ارادے کا ذکر فرمایا۔ ۲؎ اس طرح کہ قبلہ کو رخ ہو اور داہنی ہتھیلی داہنے رخسار کے نیچے رکھے کہ سنت اسی طرح لیٹنا ہے پھر بائیں کروٹ لے کر سوجائے،غرضکہ بستر کا رخ قبر کا سا ہو۔ ۳؎ فقط لفظ"قل ھو اﷲ احد"نہیں بلکہ پوری سورہ مع بسم اﷲ کے ہر بار اگر چہ یہ عمل ہے تو مشکل مگر بہت مفید ہے۔ ۴؎ یعنی چونکہ تو میرے محبوب کی سنت پر عمل کرتے ہوئے داہنی کروٹ لیٹتا تھا اور میری حمد والی سورۃ پڑھ کر سوتا تھا اس کے انعام میں آج تو جنت کے داہنے باغ میں داخل ہوجا وہ تیرا مقام ہے۔خیال رہے کہ جنتی لوگ تین قسم کے ہوں گے:مقربین حضرات علیین والے ہیں، ابرار یہ یمین والے ہیں، گنہگارجن کی شفاعت کی بنا پر مغفرت ہوچکی یہ یسار والے ہیں رب تعالٰی نے فرمایاہے:"فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ وَ مِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ وَ مِنْہُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیۡرٰتِ"۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنت کا داہنا حصہ بائیں سے افضل ہے اور یہ کہ عرش کی داہنی طرف والے بائیں سمت والوں سے بہتر۔ ۵؎ علماء فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اگرچہ درجہ صحیح کو نہ پہنچی مگر اس پر عمر میں کم از کم ایک بار ضرور عمل کرے کہ اس کے عامل کو بڑی بشارت ہے،فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بھی قبول ہے،مرقات۔