۱؎ یعنی دن و رات کے کسی حصہ میں پوری سورۂ اخلاص دوسو۲۰۰ بار پڑھا کرے۔بہتر یہ ہے کہ ایک دم ہی پڑھے اور اگر مختلف مجلسوں میں پڑھے تو بھی اجر مذکور کی امید ہے۔
۲؎ یعنی عمر بھر یہ پڑھتا رہے تو ان شاءاﷲ پچاس سال کے گناہ صغیرہ معا ف ہوں گے اور اگر اتنے گناہ نہ ہوں تو درجے بلند ہوں گے کیونکہ جن اعمال سے گنہگاروں کے عفو سیئات ہوتی ہے نیک کاروں کے لیے رفع درجات۔ یہ قانون کرم ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پھر تو نیک لوگ یہ عمل نہ کیا کریں۔
۳؎ کہ قرض تو حق العبد ہے بغیر اد اکئے یا قرض خواہ کے بغیر معاف کئے ساقط نہیں ہوتا سارے حقوق العباد کا یہ ہی حال ہے۔