| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت معقل ابن یسار سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا جو صبح کے وقت تین بار یہ کہہ لے کہ میں سننے والے جاننے والے اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں ۱؎ مردود شیطان سے ۲؎ پھر سورۃ حشر کی آخری تین آیتیں پڑھ لے۳؎ تو اﷲ اس پر ستر ہزار فرشتے مقرر فرمادے گا جو شام تک اسے دعائیں دیں گے اور اگریہ اس دن مرجائے تو شہید مرے گا۴؎ اور جو یہ چیزیں شام کے وقت پڑھ لے تو اسی درجہ میں ہوگا ۵ ؎ ترمذی دارمی اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ یعنی میری بات سننے والے،میرا درد دل جاننے والے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔خیال رہے کہ اعوذ جملہ خبریہ ہے بمعنی ان شاء یعنی اے اﷲ مجھے اپنی پناہ میں لے لے۔ ۲؎ تاکہ دن بھر وہ مردود مجھے بہکانہ سکے،عبادتوں میں دھیان نہ بٹا سکے،چونکہ سویرا زندگی کی دکان کھلنے کا وقت ہے اس لیے خصوصیت سے اسی وقت یہ دعا پڑھوائی گئی۔ ۳؎ "ہُوَ اللہُ الَّذِیۡ سے آخر سورۃ"وَ ہُوَالْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ "تک یہ آیات خالص حمد کی ہیں۔ ۴؎ یہاں فرشتوں کی دعا سے ان کی خصوصی دعائیں مراد ہیں،ورنہ فرشتے عمومی دعائے مغفرت تو ہر مسلمان کے لیےکرتے رہتے ہیں جیساکہ پہلے عرض کیا گیا گیا اور شہید سے مراد شہادت حکمی ہے کہ بندہ اگرچہ اپنے بستر پر مرے مگر قیامت میں اس کا شمار ان شہداءمیں ہو جو راہ خدا میں مارے گئے۔ ۵؎ لغت میں صباح آدھی رات سے زوال تک کو کہتے ہیں اور مساء زوال سے اول نصف رات تک کو مگر اورادووظائف میں صبح صادق سے سورج نکلنے سے کچھ بعد تک ہے اور شام اس کے مقابل یعنی سورج چھپنے سے کچھ رات گئے تک یعنی وقت عشاء آنے سے پہلے۔(ازمرقات)اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے صبح و شام کی نہایت نفیس تحقیق اپنی کتاب "الوظیفۃ الکریم"میں فرمائی ہے ناظرین اس کا مطالعہ ضرور فرمائیں۔