Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
379 - 5479
حدیث نمبر 379
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی صحابی نے ایک قبر پر خیمہ ڈال دیا انہیں خبر نہ تھی کہ یہاں قبر ہے ۱؎ پتہ لگا کہ اس میں ایک شخص سورۂ تبارك الذی بیدہ الملك پڑھ رہا ہے حتی کہ اس نے ختم کرلی ۲؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کی خبر دی۳؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ سورہ روکنے والی ہے۴؎نجات دینے والی ہے جو اﷲ کے عذاب سے نجات دے گی ۵؎ ترمذی اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ اگر قبر کی خبر ہوتی تو وہاں ہرگز خیمہ نہ ڈالتے کیونکہ قبر پر بیٹھنا لیٹنا،اس پر چلنا پھرنا ممنوع ہے۔

۲؎ مرقات نے یہاں فرمایا کہ بعض مردے قبر میں بھی بعض وہ نیکیاں کرتے رہتے ہیں جو زندگی میں کرتے تھے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ جس حال میں جیو گے اسی میں مرو گے اور جس حال میں مرو گے اسی میں اٹھو گے،اس لیے کوشش کرو کہ زندگی اچھے اعمال میں گزارو۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت بلال اذان دیتے ہوئے قبر سے اٹھیں گے،ان کا ماخذ غالبًا ان جیسی روایات ہیں ان شاءاﷲ نعت خواں مسلمان قبر میں بھی حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کی نعت ہی پڑھیں گے۔رب تعالٰی قبول فرمائے ان صحابی کا یہ تلاوت سن لینا ان کی کرامت ہے ورنہ ہم لوگ نہیں سناکرتے۔

۳؎ اورتعجب کا اظہار کیا کہ مردہ بھی تلاوت قرآن کررہا تھا۔

۴؎ یعنی اس سورت کی  تلاوت کرنے والے کو زندگی میں گناہوں سے، موت کے وقت خرابی خاتمہ سے، قبر میں عذاب و تنگی گورے، آخرت میں دہشت و سخت عذاب سے بچاتی ہے۔

 ۵؎ یعنی عذاب قبروحشر سے بچائے گی۔خلاصہ جواب یہ ہوا کہ یہ شخص اپنی زندگی میں اس سورۃ کی تلاوت کرتا تھا اب قبر میں بھی تلاوت کررہا ہے اور اس سے مذکورہ بالا فائدے حاصل کرچکا ہے اب بھی کر رہا ہے آئندہ بھی کرے گا۔
Flag Counter