۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ بسم اﷲ شریف سورۃ کا جزءنہیں ورنہ سورۂ ملک کی آیتیں۳۱ ہوجاتیں،کیونکہ سورۂ ملک کی بسم اﷲ کے علاوہ تیس آیتیں ہیں۔
۲؎ یعنی ایک شخص سورۂ ملک کا ورد رکھتاتھا اس سے بہت محبت کرتا تھا اس کے مرنے کے بعد اس سورہ نے اس کی سفارش کی تو اس کی شفاعت کی برکت سے وہ شخص عذاب قبر سے محفوظ رہا لہذا یہاں شفعت بمعنی ماضی ہی ہے۔معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس عالم کی ہربات ہر واقعہ کی تفصیلی خبر ملتی رہتی ہے یا خود ملاحظہ فرماتے رہتے ہیں۔لمعات نے فرمایا کہ شفعت بمعنی مستقبل بھی ہوسکتا ہے یعنی سورۂ ملک اپنے عاملوں کی شفاعت کرے گی اور اس کی شفاعت کی برکت سے عامل کی بخشش ہوگی۔اس صورت میں یہ فرمان ترغیب کے لیے ہے تاکہ لوگ اس کی تلاوت کیا کریں اس کی شفاعت کی امید ر کھیں۔
۳؎ اسے ابن حبان اور حاکم نے بھی روایت کیا حاکم کی ر وایت میں یوں ہے کہ فر مایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بہتر ہوتا کہ یہ سورۃ ہر مسلمان کے دل میں ہوتی۔