۱؎ یعنی جن سورتوں کے اول میں سَبَّحَ یا یُسَبِّحُ یا"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی"یا سُبْحٰنَ ہے وہ سورتیں پڑھتے تھے یہ سورتیں کل سات ہیں سورۂ اسراء،حدید،حشر،صف،جمعہ،تغابن،اعلٰے مرقات۔ ظاہر یہ ہے کہ سرکار یہ پوری سورتیں نہ پڑھتے ہوں گے کہ یہ تو بہت زیادہ ہیں بلکہ ان کی چیدہ چیدہ آیات تلاوت فرماتے ہوں گے۔
۲؎ ان الفاظ سے یہ پتہ نہ لگا کہ وہ کون سی ہے بعض نے فرمایا کہ وہ آیت"لَوْ اَنۡزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ "الایہ ہے۔بعض نے فرمایا کہ وہ آیت ہرسورۃ کی شروع کی آیت ہے جس میں سبح یا یسبح ہے مگر حق یہ ہے کہ وہ آیت رب تعالٰی کے اسم اعظم یا شبِ قدر کی طرح صیغہ راز میں رکھی گئی ہے۔ مرقات نے فرمایا کہ یہاں فیھن سے مر اد جمیعھن ہے یعنی ان تمام سورتوں میں ایک ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے افضل و بہتر ہے۔