۱؎ یعنی اس کی تلاوت کے وقت سے صبح تک اتنے فرشتے اس کے لیے دعائیں مغفرت کرتے رہیں گے۔خیال رہے کہ اس دعا سے خصوصی دعا مراد ہے ورنہ حاملین عرش اور دوسرے فرشتے ہمیشہ ہی مؤمنوں کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں رب تعالٰی فرماتاہے:"اَلَّذِیۡنَ یَحْمِلُوۡنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَ یُؤْمِنُوۡنَ بِہٖ وَ یَسْتَغْفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیۡءٍ رَّحْمَۃً وَّ عِلْمًا"لہذا یہ حدیث اس قرآنی آیت کے خلاف نہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورۂ دخان پڑھنا ان معصوموں کی معصوم زبان سے دعائیں لینے کا درجہ ہے۔
۲؎ امام عسقلانی نے شرح نخبۃ الفکر میں فرمایا کہ محدثین کی اصطلاح میں منکر الحدیث کہنا ضعیف کہنے سے زیادہ سخت ہے یعنی عمر ابن خثعم کو دوسرے محدثین نے تو ضعیف فرمایا مگر امام بخاری نے اسے منکر فرمایا یعنی ضعیف سے بھی سخت تر،خیال رہے کہ یہ حدیث فضائل اعمال کی ہے فضائل میں حدیث ضعیف قبول ہے۔