Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
374 - 5479
حدیث نمبر 374
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو رات میں سورہ حٰمٓ الدخان پڑھے وہ اس طرح سویرا کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کریں گے ۱؎ ترمذی اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور عمر ابن خثعم راوی ضعیف مانےگئے ہیں امام محمد بخاری نے فرمایا وہ منکر الحدیث ہے۲؎
شرح
۱؎ یعنی اس کی تلاوت کے وقت سے صبح تک اتنے فرشتے اس کے لیے دعائیں مغفرت کرتے رہیں گے۔خیال رہے کہ  اس دعا سے خصوصی دعا مراد ہے ورنہ حاملین عرش  اور دوسرے فرشتے ہمیشہ ہی مؤمنوں کے لیے دعائیں کرتے  رہتے ہیں  رب تعالٰی فرماتاہے:"اَلَّذِیۡنَ یَحْمِلُوۡنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَ یُؤْمِنُوۡنَ بِہٖ وَ یَسْتَغْفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیۡءٍ رَّحْمَۃً وَّ عِلْمًا"لہذا یہ حدیث اس قرآنی آیت کے خلاف نہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورۂ دخان پڑھنا ان معصوموں کی معصوم زبان سے دعائیں لینے کا درجہ ہے۔

 ۲؎ امام عسقلانی نے شرح نخبۃ الفکر میں فرمایا کہ محدثین کی اصطلاح میں منکر الحدیث کہنا ضعیف کہنے سے زیادہ سخت ہے یعنی عمر ابن خثعم کو دوسرے محدثین نے تو ضعیف فرمایا مگر امام بخاری نے اسے منکر فرمایا یعنی ضعیف سے بھی سخت تر،خیال رہے کہ یہ حدیث فضائل اعمال کی ہے فضائل میں حدیث ضعیف قبول ہے۔
Flag Counter