| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی نے سورہ طہ اور یسین زمین و آسمان پیدا فرمانے سے ایک ہزار سال پہلے پڑھی ۱؎ جب فرشتوں نے قرآن سنا تو بولے خیر و خوبی ہے اس امت کو جس پر یہ اترے گی اور خوبی ہے ان سنیوں کو جو اسے اٹھائیں گے اور خوبی ہے ان زبانوں کو جو اسے پڑھیں گی ۲؎(دارمی)
شرح
۱؎ حدیث بالکل ظاہرمعنی پر ہے واقعی رب تعالٰی نے یہ سورتیں پڑھیں،فرشتوں نے بلاواسطہ سنیں اب رب تعالٰی کی تلاوت کی نوعیت ہماری عقل سے وراءہے اس طرح قرأت کی جو اس کی شان کے لائق ہے۔مرقات نے فرمایا کہ یٰسٓ اور طٰہٓ حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کے نام شریف ہیں،چونکہ ان سورتوں کی ابتداءحضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کے نام سے ہوئی اس لیے یہ سوتیں بہت عظمت والی ہیں اسی وجہ سے رب تعالٰی نے فرشتوں کو سنائیں۔معلوم ہوا کہ نعت کی سورتیں،آیتیں رب تعالٰی کو بڑی پیاری ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کی پیدائش زمین و آسمان کی پیدائش سے پہلے ہے۔ ۲؎ طوبی جنت کا ایک درخت بھی ہے جس کی شاخیں جنت کے ہرمحل میں ہیں اور بمعنی خوشخبری بھی یہاں دونوں معنے ہوسکتے ہیں یعنی ساری امت محمدیہ عمومًا اور ان سورتوں کے حافظ وقاری خصوصًادرخت طوبی کے مالک ہیں یا انہیں خصوصی خوشخبری ہے یہ لوگ بڑے خوش نصب ہیں۔