۱؎ جیسے دل سے اصل زندگی وابستہ ہے کہ اگر یہ ٹھیک ہے تو جاندار جاندار ہے اس کو ٹھیس لگتے ہی بے جان ہوجاتا ہے ایسے ہی قرآن کریم کا اصل مقصود سورہ یسین سے وابستہ ہے،یہ سورہ پورے قرآن شریف کا گویا خلاصہ ہے کہ اس میں قیامت کے حالات کا مکمل بیان ہے،اس کی تلاوت سے دل زندہ ،ایمان تازہ ،روح شاداں و فرحاں ہوتے ہیں۔قریب موت اس کی تلاوت سے جان کنی آسان ہوتی ہے ۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ ایمان کا دل ہے قیامت کے حالات کو ماننا اور حالات قیامت جس تفصیل سے سورۂ یسین میں مذکور ہیں دوسری سورت میں مذکور نہیں اس لیے اسے قرآن کا دل فرمایا۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ سارا قرآن شریف ہی کلام الٰہی ہے مگر اس کی سورتوں کی تاثیریں مختلف ہیں ایک بار سورہ یسین کی تلاوت دس۱۰ قرآن کا ثواب رکھتی ہے یہ اس کی بے مثال خصوصیت ہے۔ خیال رہے کہ دس۱۰ ختم قرآن کا ثواب ملنا اور ہے اورحقیقتا دس۱۰ قرآن کریم ختم کرنا کچھ اور۔ طبیب کہتے ہیں کہ ایک منقی گرم کرکے کھانے میں ایک روٹی کی طاقت ہے مگر پیٹ بھرے گا روٹی ہی کھانے سے، ختم قرآن ہوگا تیسوں پارے پڑھنے سے۔
۳؎ اس لیے کہ اس کی اسناد میں ھارون ابن محمد ہیں جو محدثین کے نزدیک بہت قوی نہیں۔