| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن سیکھو ۱؎ پھر اسے پڑھا کرو ۲؎ کیونکہ جو قرآن سیکھے اور اس کی قرأت کرے اور اس پرعمل کرے اس کی مثال اس تھیلے کی سی ہے جس میں مشک بھرا ہو جس کی خوشبو ہر جگہ مہک رہی ہو۳؎ اور جو اسے سیکھے پھر سویا رہے ۴؎ اس طرح کہ اس کے سینے میں قرآن ہو وہ اس تھیلے کی طرح ہے جو مشک پر سربند کردیا گیا ہو ۵؎(ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ قرآن سیکھنے سے مراد عام ہے جس میں قرآن کے الفاظ معانی،احکام سیکھنا سب ہی شامل ہے فقہاء فرماتے ہیں حفظ قرآن فرض کفایہ ہے مختلف بستیوں میں اتنے حافظ ضرور رہیں جن سے قرآن کریم کا تواتر قائم رہے اور کوئی بے دین قرآن میں تبدیلی نہ کرسکے،لہذا اگر حفظ قرآن چھوڑ دیں تو سب گنہگار ہیں اور اگر اتنے لوگ حفظ کرلیں سب کا فرض ادا ہوگیا علم قرآن کا بھی یہ ہی حال ہے اور بقدر جواز نماز قرآن حفظ کرنا فرض عین ہے جیسے بقدر ضرورت مسائل یاد کرنا سیکھنا فرض عین ہے اور پورا عالم دین بننا فرض کفایہ۔ ۲؎ یعنی قرآن شریف یادکرنے اور سیکھنے کے بعد اس کا دور نہ چھوڑ دو اور اپنے حافظہ پر اعتماد نہ کرلو یہ بہت جلد ذہن سے اتر جاتا ہے یا مطلب یہ ہے کہ قرأت قرآن یعنی تجوید سیکھو کہ بقدر جواز نماز تجوید سیکھنا بھی فرض عین ہے اور پورا قاری بننا فرض کفایہ اس لیے عرس،ختم،میلاد اور گیارھویں شریف وغیرہ میں قرآنی رکوع پنج آیات پڑھتے ہیں تاکہ لوگوں میں قرأت کا چرچا رہے یہ چیزیں خصوصًا تراویح کی نماز بقائے قرآن کا بڑا ذریعہ ہیں ۳؎ لہذا ایسے عالم و قاری کا سینہ گویا تھیلا ہے اور اس میں قرآن شریف گویا تھیلے میں بھرا ہوا مشک ہے اور اس قاری کا تلاوت کرنا اس مشک کی مہک ہے جس سے سننے والے فائدہ اٹھاتے ہیں ہر جگہ سے مراد قرآن سننے والے ہیں جو قرآنی علم کی اشاعت کرجائے اس کی مہک سے قیامت تک کے مسلمان فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں ،رب تعالٰی خدمت قرآن کی توفیق بخشے۔ ۴؎ کہ اس کی تلاوت نہ کیا کرے یا اس پر عمل نہ کیا کرے۔ ۵؎ اس بند تھیلے میں اگرچہ مشک تو ہے اور اسی مشک کی وجہ سے تھیلہ قیمتی بھی ہے مگر لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے ایسے ہی یہ شخص اﷲ کے نزدیک قیمتی ہے حافظ قرآن یا عالم قرآن ہونے کی وجہ سے مگر لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ خود بھی فائدہ نہیں اٹھاتا کسی پنجابی شاعر نے کیا اچھا کہا۔شعر علم و دھیرا پڑھ لیا عمل نہ کیتے نیک آئی گھٹا اتر گئی بوند پئی نہ ایک احمد یار احمق ہوئیوں علم ودھیرا پڑ ھ کے پڑھے لکھے تے مان نہ کریو پھٹ جاندا ددھ کڑھ کے