Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
367 - 5479
حدیث نمبر 367
روایت ہے حضر ت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابی ابن کعب سے تم نماز میں قرآن کیسے پڑھتے ہو ۱؎ تو انہوں نے الحمد شریف پڑھی ۲؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس جیسی سورت نہ توریت میں اتری نہ انجیل میں اور نہ زبور میں اور نہ قرآن میں۳؎ اور یہ سات مکرر آیتیں اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا ہوئے۴؎ ترمذی اور دارمی نے ما انزلت کی روایت کی اور ابی ابن کعب کا واقعہ ذکر نہ کیا ۵؎ ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن و صحیح ہے۔
شرح
۱؎ یعنی نماز کی ہررکعت میں کون سی سورۃ پڑھتے ہو،اور کیسے پڑھتے ہو،مجھے پڑھ کر سناؤ۔معلوم ہوا کہ شاگردوں کا امتحان لینا سنت ہے۔فقیر کی اس شرح سے حدیث پر یہ اعتراض نہ رہا کہ حضرت ابی کا جواب سرکار کے سوال کے مطابق نہیں کیونکہ یہاں قرأت،طریقہ قرأت اورمقرو سب کے متعلق تھا اس لیے جواب میں حضرت ابی کا سورۂ فاتحہ پڑھ کر سنا دینا ہرسوال کا جواب ہوگیا۔

۲؎ سورۂ فاتحہ کے بہت سے نام ہیں جن میں سے ایک نام ام القرآن بھی ہے کہ یہ سورۃ سارے قرآن کے سارے مضامین کو اپنے میں ایسے لیے ہوئے ہے جیسے ماں بچے کو اپنے پیٹ یا گود میں لیے ہوتی ہے اس کی تحقیق ہماری کتاب"تفسیرنعیمی"پارہ اول میں ملاحظہ فرمایئے۔اس سے معلوم ہوا کہ شاگرد کا استادکو پڑھا ہواسبق سنانا سنت صحابہ ہے۔

۳؎ یعنی ایسے فضائل و فوائد والی جامع سورہ کسی اور آسمانی کتاب میں تو کیا ہوتی خود قرآن کریم میں بھی نہیں ہے سورۂ فاتحہ کے فضائل و فوائد بے شمار ہیں اس لیے یہ نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے اس کے فضائل وفوائد کی کچھ تفصیل ہماری "تفسیرنعیمی"پارہ اول میں ملاحظہ کیجئے۔یہ سورۃ شفاء ہے امان ہے مؤمن کی حرز جان ہے۔

۴؎ یعنی قرآن مجید میں ارشاد ہوا"سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیۡ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیۡمَ"۔اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے،اس میں سات آیتیں ہیں،اور ہر رکعت میں بار بار پڑھی جاتی ہیں،نیز اس کا نزول ہجرت سے پہلے بھی ہوا اور بعد بھی اس لیے یہ سبع مثانی ہے یعنی سات مکرر آیتیں اور یہ قرآن عظیم بھی ہے کیونکہ قرآن کریم کی ہر آیت قرآن ہے جیسے پانی کا ہر قطرہ پانی ہے لہذا اس آیت کریمہ میں یہ دونوں وصف سورۃ فاتحہ کے ہیں۔

۵؎ یعنی دارمی کی روایت میں حضرت ابی ابن کعب کا یہ واقعہ مذکور نہیں صرف فضائل مذکور ہے۔
Flag Counter