| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو قرآن پڑھے پھر اسے یاد رکھے ۱؎ اس کے حلال کو حلال اس کے حرام کو حرام جانے ۲؎ اﷲ اسے جنت میں داخل کرے گا اور اس کے گھر والوں میں سے ایسے دس آدمیوں میں اس کی شفاعت قبول فرمائے گا جن کے لیے دوزخ ضروری ہوچکی ۳؎ احمد ترمذی،ابن ماجہ دارمی اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور حفص ابن سلیمان راوی قوی نہیں انہیں حدیث میں ضعیف مانا گیا ہے۴؎
شرح
۱؎ استظہار کے معنے ہیں مدد لینا یعنی قرآن میں اپنے دل سے مدد لے کہ اسے یاد رکھے،ہر وقت اس کا خیال و لحاظ رکھے۔ ۲؎ یعنی صرف تلاوت و حفظ پر قناعت نہ کرے بلکہ اس کے عقائد کو مانے احکام پرعمل کرے لہذا اس میں حافظ و عالم با عمل دونوں داخل ہیں۔ ۲؎ ایسے باعمل عامل کو قرآن پاک سے دو عظیم الشان فائدے حاصل ہوں گے:ایک یہ کہ اول ہی سے جنت میں داخل کیا جائے گا۔دوسرے یہ کہ اس کے اہلِ قرابت میں سے دس دوزخی مسلمانوں کو اس کی شفاعت سے بخشا جائے گا۔ معلوم ہوا کہ شفاعت بلندی درجات ہی کی نہ ہوگی بلکہ معافی سئیات کی بھی ہوگی اور علماء حافظ،شہدا،وغیرہم کی شفاعت برحق ہے۔ خیال رہے کہ شفاعت کبرے کا سہرا صرف حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کے سر ہے شفاعت صغرے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے غلام بھی کریں گے شفاعت کی تحقیق و تقسیم ہماری "تفسیرنعیمی"جلد سوم میں ملاحظہ فرمائیے۔ ۴؎ یہ حدیث غریب بھی ہے اور حفص ابن سلیمان راوی کی وجہ سے اس کی یہ اسناد جس میں یہ راوی ہے ضعیف بھی ہے مگر ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ فضائل میں حدیث ضعیف بھی قبول ہے۔