۱؎ اس حدیث پاک کی بہت شرحیں کی گئی ہیں،قوی تر شرح یہ ہے کہ آگ سے مراد دوزخ کی آگ ہے مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی عظمت یہ ہے کہ اگر بالفرض کسی کھال میں رکھ کر اسے دوزخ میں ڈالو تو نہ قرآن پاک کا کاغذ جلے نہ وہ کھال تو جس مؤمن کے دل میں اور دماغ میں قرآن پاک کے مضامین ہوں جسم پر قرآنی عمل ہو وہ دوزخ میں کیسے جل سکے گا،بعض نے فرمایا کہ قرآن کریم کا یہ معجزہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں ظاہر تھا جیسے حضرت جابر کے ہاں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے کپڑے کے دستر خوان سے ہاتھ و منہ پونچھ لیے تھے تو وہ آگ میں نہ جلتا تھا مولانا فرماتے ہیں۔شعر
گفت روزے مصطفے دست و دہاں پس بما لید اندرایں دستار خواں
اے دل تر سندہ ازنا رو عذاب باچنیں دست و وہاں کن انتساب
بعض نے فرمایا کہ یہ کلام فرض و تقدیر پر ہے یعنی قرآن پاک کی عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ آگ میں اس کا تھیلہ بھی نہ جلے جیسے رب تعالٰی کا فرمان کہ"لَوْ اَنۡزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیۡتَہٗ خٰشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللہِ"۔حضرت ابولبانہ سے روایت ہے فرماتے ہیں قرآنی سورتیں حفظ کر و کہ جس دل میں قرآن ہوگا اسے آگ سے عذاب نہ دیاجائے گا۔(لمعات و مرقات)خیال رہے کہ قرآن پاک کے یہ تمام فوائد مؤمن کے لیے ہیں۔اگر سارا قرآن حفظ کرلیں کفار تو بھی دوزخی ہیں،رام چندر دہلوی کو چودہ پارے حفظ تھے،بے جان جسم کو کوئی دوا مفید نہیں بے ایمان دل کو کوئی عمل فائدہ مند نہیں۔