| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت حارث سے فرماتے ہیں میں مسجد میں گزرا تو لوگ بات چیت میں مشغول تھے ۱؎ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ۲؎ میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو فرمایا کیا لوگ یہ حرکت کرنے لگے میں بولا ہاں فرمایا آگاہ رہو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ عنقریب فتنے ہوں گے ۳؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ ان سے رہائی کی سبیل کیا ہے ۴؎ فرمایا اﷲ تعالٰی کی کتاب ۵؎ جس میں تمہارے اگلوں کی خبریں اور پچھلوں کی خبریں اور تمہارے آپس کے فیصلے ہیں قرآن فیصلہ کن ہے ۶؎ وہ غیر درست نہیں ہے جو ظالم اسے چھوڑ دے گا اﷲ اس کے ٹکڑے اڑا دے گا۷؎ اور جو اس کے غیر میں ہدایت ڈھونڈے گا اﷲ اسے گمراہ کر دے گا ۸؎ وہ اﷲ کی مضبوط رسی ہے اور وہ حکمت والا ذکر ہے وہ سیدھا راستہ ہے ۹؎ قرآن وہ ہے جس کی برکت سے خیالات بگڑتے نہیں ۱۰؎ اور جس سے دوسری زبانیں مشتبہ نہیں ہوتیں ۱۱؎ جس سے علماء سیر نہیں ہوتے ۱۲؎ جو زیادہ دہرانے سے پرانا نہیں پڑتا ۱۳؎ جس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے ۱۴؎ قرآن ہی وہ ہے کہ جب اسے جنات نے سنا تو یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو صلاحیت کی رہبر ی کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے ۱۵؎ جو قرآن کا قائل ہو وہ سچا ہے جس نے اس پر عمل کیا ثواب پائے گا اور جو اس پر فیصلہ کرے گا منصف ہوگا اور جو اس کی طرف بلائے گا وہ سیدھی راہ کی طرف بلائے گا۱۶؎ ترمذی،دارمی اور ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسناد مجہول ہے اور حارث میں کچھ گفتگو ہوئی ہے ۱۷؎
شرح
۱؎ احادیث سے مراد دنیاوی باتیں ہیں جو مسجد میں حرام ہیں اگرچہ جائز باتیں ہی ہوں،وہاں غیبت و جھوٹ وغیرہ حرام گفتگو تو اور سخت حرام ہے،احادیث سے مراد احادیث نبویہ نہیں جیساکہ بعض جاہلوں نے سمجھا۔مسجد میں حدیث شریف و فقہ وغیرہ دینی علوم کا درس بہترین عبادت ہے،اصحاب صفہ مسجد نبوی میں رہتے تھے اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے سارے دینی علوم سیکھتے تھے،یہ حار ث تابعی ہیں،حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خدام خاص میں سے ہیں۔ ۲؎ اگرچہ اس وقت اور صحابہ بھی موجود تھے،مگر آپ خصوصیت سے حضرت علی کے پاس گئے کہ حضرت علی دروازۂ شہر نبوت ہیں"انا مدینۃ العلم وعلیٌّ بابہا"یہ حدیث اگرچہ اسناد مقررہ سے ضعیف ہے مگر متن حدیث صحیح ہے۔مرقات ۳؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں فتنوں سے مراد وہ لڑائیاں اور جھگڑے ہیں جو صحابہ میں رونما ہوئے اور مسجدوں میں دنیاوی باتیں کرنا ان فتنوں کے ظہور کی علامت ہے یعنی اب وہ فتنے قریب آگئے کیونکہ مسجد میں دنیاوی باتیں ہونے لگیں،بعض نے اس سے مراد آگ کا یا دجال کا نکلنا مراد لیا مگر پہلے معنے زیادہ موزوں ہیں۔ خیال رہے کہ فتنہ عام مصیبت یا آزمائش کو کہتے ہیں۔ ۴؎ یعنی ایسا کون سا کام کیا جائے جس سے ان فتنوں سے مسلمان بچا رہے۔ ۵؎ قرآن کریم پر عمل یا اس کی تلاوت میں مشغولیت،معلوم ہوا کہ بعض نیکیوں کی برکت سے انسان دنیاوی آفات سے محفوظ رہتا ہے،درود شریف کی کثرت موت و زندگی کے فتنوں سے محفوظ رکھتی ہے بفضلہ تعالیٰ۔ ۶؎ یعنی قرآن شریف ایسی جامع کتاب ہے کہ اس میں گزشتہ امتوں کے واقعات آئندہ تا قیامت بلکہ جنت و دوزخ کے حالات بھی ہیں اور عبادات و معاملات و سیاسیات بھی ہیں۔ ۷؎ یہ جملہ یا خبر ہے یا بددعا یعنی جو شخص قرآن کے خلاف چلے خدا اس کے ٹکڑے اڑا دے گا یا جو اس کے علاوہ دوسری راہ اختیار کرے گا خدا تعالٰی اسے برباد کردے گا یعنی وہ کافر ہوجائے گا۔ خیال رہے کہ قرآن شریف کو ناحق جان کر اسے چھوڑ دینا کفر ہےاور اس کو حق جان کر عمل نہ کرنا فسق اور مجبورًا اس پر عمل نہ کرسکنامعذوری ہے جس پر پکڑ نہیں یہاں پہلی صورت مراد ہے لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔ ۸؎ غیر قرآن سے مراد علوم عقلیہ یا کفار کی پیر وی ہے حدیث و فقہ غیر قرآن نہیں کہ یہ دونوں قرآن کریم کی شرحیں ہیں جیسے صرف و نحو قرآن پاک کے لیے ممدو معاون ہیں لہذا اس حدیث سے چکڑالوی دلیل نہیں پکڑسکتے۔ ۹؎ یہ تمام چیزیں قرآن کریم کے اوصاف بھی ہیں اور اس کے نام بھی قرآن پاک میں خود یہ نام موجود ہیں رسی کے ذریعہ بکھروں کو جمع کیا جاتا ہے رسی کے ذریعے کنوؤں سے گروی کو اوپر نکالا جاتا ہے قرآن کریم میں یہ ساری صفات موجود ہیں رب تعالٰی نے فرمایا:"وَاعْتَصِمُوۡا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیۡعًا"۔وہاں حبل اﷲ سے مراد قرآن پاک ہے یا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم یا دونوں۔ ذکر کے معنے عزت،شہرت،نصیحت تذکرہ ہیں قرآن کریم میں یہ ساری صفات موجود ہیں کہ اسی قرآن کی وجہ سے اہلِ عرب کی دنیا میں شہرت و عزت ہوگئی اس میں ہر قسم کی نصیحتیں اور ہر قسم کے تذکرے ہیں یہ خدا تعالٰی تک پہنچانے والا سیدھا راستہ ہے جو اسے چھوڑ دے وہ رب تعالٰی تک نہیں پہنچ سکتا۔ ۱۰؎ یعنی جو قرآن کریم سے صحیح طور پر استدلال کرے گا وہ اپنے خیالات کو بگڑنے سے محفوظ رکھے گا،اگر کوئی اس سے غلط استدلال ہی کرے اور گمراہ ہوجائے تو قرآن کریم کا قصور نہیں بلکہ اس کے استدلال کا قصور ہے قرآن کریم کو حدیث و فقہ کی روشنی میں سمجھو لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ "یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًا وَّیَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا"۔نیز اس حدیث سے موجود زمانہ کے چکڑالوی دلیل نہیں پکڑ سکتے کہ وہ قرآن کریم کو صحیح طور سے سمجھتے ہی نہیں بعض شارحین نے اس جملہ کے معنے یہ کئے ہیں کہ قرآ ن کریم کو گمراہ لوگ بدل نہیں سکتے،یہ اسی طرح محفوظ رہے گا کیوں نہ ہو کہ رب تعالٰی اس کا حافظ ہے فرماتا ہے:"اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ"۔اس صورت میں بہ کی ب تعدیہ ہے تاریخ شاہد ہے کہ قرآن کریم بدلنے کی بہت کوششیں کی گئیں،مگر بدلنے والے مٹ گئے قرآن کریم نہ بدل سکا۔ ۱۱؎ یعنی قرآن مجید کی عبارت دوسرے کلاموں سے ایسے ممتاز ہے کہ دوسرا عربی کلام خواہ کتنا ہی فصیح و بلیغ ہو اس سے خلط نہیں ہوسکتا۔مخلوق کا کلام خالق کے کلام سے مشتبہ نہیں ہوسکتا۔یا اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ یہ کلام مسلمانوں کی زبان پر گراں نہیں پڑتا۔آسانی سے پڑھ لیاجاتاہے بلکہ حفظ کرلیا جاتاہے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ "۔ ۱۲؎ یعنی قرآن کریم کے اسرار و نکات کبھی ختم نہیں ہوتے،علماء جب بھی غور کرتے ہیں اس سے نئے مسائل و اسرار معلوم کرتے ہیں،قرآن کریم کی کنہ تک کوئی نہیں پہنچتا،یہ ان موتیوں کا وہ سمندر ہے جس کے موتی کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ۱۳؎ قرآ ن کریم کا کھلا معجزہ ہے کہ بغیر معنے سمجھے بھی اس کا پڑھنا اور سننا لذت دیتا ہے اور عمر بھر پڑھو ہر بار نیا لطف دیتا ہے اس سے دل اکتاتا نہیں دوسرے کلام کتنے ہی اعلیٰ ہوں مگر چند بار پڑھ لینے کے بعد دل اکتا جاتاہے۔ ۱۴؎ یہ جملہ پہلے جملوں کی یا تو شرح ہے یا دلیل یعنی اس سے علماء سیر نہیں ہوتے،بار بار پڑھنے سے یہ پرانا نہیں پڑ تا کیونکہ اس کے عجیب مضامین کبھی ختم نہیں ہوتے ہر بار عجیب لطف دیتاہے۔ ۱۵؎ یہ نصیبین کے جنات کا واقعہ ہے جو قرآن شریف نے سورۂ جنّ میں بیان فرمایا کہ جنات کے ایک گروہ نے سوق عکاظ میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے قرآن کریم سنا تو اپنی قوم میں جاکر یہ گفتگو کی۔ ۱۶؎ یہ تمام خوبیاں قرآن کریم سے وہ حاصل کر سکتا ہے جو اسے محض اپنی رائے سے نہ سمجھے بلکہ حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیم سے سمجھے۔ورنہ آج ہربے دین قرآن کریم ہی کا نام لے کر لوگوں کو گمراہ کررہاہے۔ ۱۷؎ اس حدیث کی اسناد میں ایک راوی حارث ابن اعور تھے وہ اگرچہ حضرت علی کے ساتھ رہے ہیں اور ان سے چار حدیثیں بھی روایت کی ہیں،مگر اسے نسائی نے کہا یہ قوی نہیں،شعبی نے کہا یہ جھوٹاتھا مگر ابوداؤد نے فرمایا یہ بڑ ا فقیہ علم فرائض کا بڑا عالم اور بہت نسب دان تھا،بہرحال اگرچہ الفاظ حدیث میں کچھ ضعف ہو مگر معنے حدیث بالکل صحیح ہیں نیز فضائل میں حدیث ضعیف بھی قبول(مرقات،لمعات)