۱؎ اَلَم تَرَ میں عام مسلمانوں سے خطاب ہے اور یہ فرمان اظہار تعجب یا ان سورتوں کی اہمیت دکھانے کے لیے ہے یعنی تعوذ اور پناہ لینے کے متعلق جتنی آیتیں ہیں ان سب میں یہ سورتیں افضل ہیں،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ قل ھو اﷲ احد تو ان سورتوں میں بھی افضل ہے۔
۲؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ بسم اﷲ سورت کا جزء نہیں کہ یہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اﷲ کا ذکر نہ فرمایا قل اعوذ سے سورت کی ابتداء بتائی نیز پہلی وحی اقراباسم ربك ہے بسم اﷲ وہاں بھی نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ یہ دونوں سورتیں قرآن میں ہیں،اسی پر امت کا اجماع ہے لہذا جو انہیں قرآن نہ مانے وہ کافر ہے،وہ جو کہا گیا ہے کہ حضرت ابن مسعود اور ابی ابن کعب نے انہیں قرآن نہ مانا غلط ہے ان بزرگوں پر تہمت ہے۔(مرقات)