Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
355 - 5479
حدیث نمبر 355
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا ۱؎ یارسول اﷲ میں اس سورۃ"قل ھو اﷲ احد"سے بڑی محبت کرتا ہوں سرکار نے فرمایا تیری یہ محبت تجھے جنت میں پہنچادے گی ۲؎(ترمذی)اور بخاری نے اس کے معنے کی روایت کی ۳؎
شرح
۱؎ اس عرض کرنے والے کا نام کلثوم یا کرزم ہے،پہلا قول زیادہ قوی ہے(مرقات)

۲؎ سبحان اﷲ! کیسا مختصر اور جامع جواب ہے یعنی تو اس سورت سے محبت کی بناء پر اﷲ کا پیارا بن جائے گااور اﷲ کے پیارے کی جگہ جنت ہی تو ہے،بعض لوگ سورۂ اَلَمْ نَشْرَحْ،وَالضُّحٰی اور سورۂ فتح واحزاب سے بڑی محبت کرتے ہیں اس لیے کہ یہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی نعت کی سورتیں ہیں،ان کی یہ محبت بھی ان شاءاﷲ جنتی ہونے کا ذریعہ ہے۔

۳؎ یہ مصنف پر اعتراض ہے کہ اس نے پہلی فصل میں ترمذی کی حدیث نقل کی،حالانکہ بخاری میں اس کی مثل موجودتھی۔چنانچہ بخاری نے حضرت انس سے تعلیقًا ایک بڑا واقعہ روایت کیا کہ ایک انصاری مسجد قباء شریف میں امام تھے وہ ہر رکعت میں الحمد پڑھ کر پہلے سورۂ اخلاص پڑھتے پھر دوسری سورت اس پر مقتدیوں نے اعتراض کیا،انہوں نے فرمایا کہ میں امامت چھوڑ دوں گا مگر سورۂ اخلاص پڑھنا نہیں چھوڑوں گا۔چونکہ وہ افضل صحابہ میں سے تھے اس لیے لوگ ان کی امامت کو غنیمت جانتے تھے،ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء کی زیارت کے لیے تشریف لائے تب یہ مقدمہ بارگاہ عالی میں پیش کیا گیا۔جس پر سرکار نے ان امام کا بیان لے کر یہ فیصلہ دیا۔(مرقات)اس حدیث کو بزاز اور بیہقی نے بھی روایت کیا۔
Flag Counter