| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات میں جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے ۱؎ تو اپنے ہاتھ جمع کرکے ان میں پھونکتے ۲؎ جن میں"قل ھو اﷲ احد"اور"قل اعوذ برب الفلق"اور"اعوذ برب الناس"پڑھتے ۳؎ پھر جسم کے جس حصہ تک ہوسکتا وہ ہاتھ پھیرتے ۴؎ اپنے سر مبارک اور چہرے پاک کے سامنے والے حصے سے شروع فرماتے یہ تین بار کرتے تھے ۵؎ مسلم،بخاری اور حضرت ابن مسعود کی یہ حدیث کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی الخ ان شاءاﷲ باب المعراج میں بیان کریں گے۶؎
شرح
۱؎ ہر رات کے فرمانے سے معلوم ہوا کہ یہ عمل دن کے قیلولہ میں نہ کرتے تھے،صرف رات کو سوتے وقت کرتے تھے،بستر سے مراد خوابگاہ ہے لہذا اگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جنگل میں بھی رات کو سوتے تو یہ عمل کرکے سوتے۔ ۲؎ نفخ اور نفث دونوں کے معنے ہیں پھونکنا مگر نفخ میں محض سانس نکالنا ہوتا ہے اور نفث میں سانس کے ساتھ کچھ لعاب دہن بھی شامل ہوتاہے۔ ۳؎ یہاں فقراء کی ف ایسی ہے جیسے رب تعالٰی کا فرمان:"فَاِذَا قَرَاۡتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ"یا جیسے"اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوۡا وُجُوۡہَکُمْ"یعنی جب بستر پر لیٹتے اور دم کرنا چاہتے تو یہ سورتیں پڑھتے۔ یہ مطلب نہیں کہ دم تو پہلے کرلیتے اور سورتیں بعد میں پڑھتے لہذا ہمارا ترجمہ درست ہے ف کے خلاف نہیں بعض نسخوں میں ونفث واو سے ہے،تب تو بالکل واضح ہے۔ ۴؎ تاکہ قرآن کی برکت کے ساتھ اپنے سانس اور ہاتھ شریف کی برکتیں بھی شامل ہوجائیں،اس سے بزرگوں کا دم درود یا مرض کی جگہ ہاتھ رکھ کر یا ہاتھ پھیر کر دم کرنا ثابت ہوا۔ ۵؎ ہم کو بھی اس پر عمل کرنا چاہئیے اس سے آفات سے حفاظت رہتی ہے۔ ۶؎ یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی مگر ہم اسے باب المعراج میں بیان کریں گے کیونکہ وہ اس باب سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔