Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
354 - 5479
حدیث نمبر 354
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو لشکر کا سردار بنا کر بھیجا وہ اپنے ساتھیوں کی امامت نماز کرتا تھا ۱؎ تو ہمیشہ"قل ھو اﷲ احد"پر قرأت ختم کرتا تھا۲؎ جب صحابہ لوٹے تو یہ ماجرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۳؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سے پوچھو ایسا کیوں کرتے تھے۴؎ ان سے پوچھا وہ بولے اس لیے کہ رحمن کی صفت ہے مجھے اس کا پڑھنا بڑا پسند ہے۵؎ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے خبر دیدو کہ اﷲ اس سے محبت کرتاہے ۶؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ کیونکہ امامت کا حق سلطان اسلام یا سردار قوم کو ہے جب کہ وہ علم شریعت رکھتے ہوں،چونکہ یہ اس فوج کے کمانڈر تھے اس لیے ان کے امام بھی رہے۔

 ۲؎ یعنی ہر نماز کی آخری رکعت میں اور جماعت کی دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد"قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ"پڑھا کرتے تھے قرأت ختم کرنے کے بعد کے یہ ہی معنے ہیں،یہ مطلب نہیں کہ ہررکعت میں اور سورت پڑھ کر"قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ"پڑھتے تھے کہ یہ تو مکروہ ہے۔

۳؎ یا تو حکایۃً کہا گیا یا شکایۃً کیونکہ صحابہ کرام نماز میں کوئی سورت مقرر نہ کرتے تھے،فرائض میں یہ مکروہ بھی ہے ہاں نوافل میں سورتوں کا تقرر جائز ہے مثلًا کوئی شخص ہمیشہ تہجد میں"قُلْ ہُوَ اللہُ"ہی پڑھا کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شاگرد کی شکایت استاد سے مرید کی شکایت پیر سے حتی کہ اپنے امام کی شکایت سلطان اسلام سے کرسکتے ہیں یہ غیبت نہیں بلکہ اصلا ح ہے۔

۴؎ محض نماز کو مختصر کرنے کے لیے"قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ"پڑھتے تھے یا اس لیے کہ انہیں دوسری سورتیں کم یاد ہیں یا کسی اور وجہ سے۔ معلوم ہوا کہ فریقین کا بیان لے کر حاکم کو فیصلہ کرنا چاہئیے۔ فتوے اور ہے فیصلہ کچھ اور فتوے صرف ایک فریق کے بیان پر دیا جاسکتا ہے،دیکھو داؤد علیہ السلام نے بکریوں والے فرشتوں میں سے ایک کا بیان سن کر فتوے دے دیا تھا یہ حدیث تعلیم فیصلہ کے لیے ہے۔

 ۵؎ یعنی مجھے اﷲ تعالٰی سے محبت ہے اور عاشق کو اپنے محبوب کا ذکر پیارا ہوتا ہے اور وہ اس کا ذکر اکثر کرتا ہے اس لیے میں بھی نماز میں اکثر یہ سورت پڑھاکرتا ہوں،ورنہ مجھے اور سورتیں بھی یاد ہیں۔

 ۶؎ یا تو اس سورۃ سے محبت کرنے کی بنا پر یا اﷲ تعالٰی سے محبت کرنے کی بناء پر۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کی آیات ذات و صفات الٰہی سے محبت کرنا اﷲ تعالٰی کے محبوب بن جانے کا ذریعہ ہے ایسے ہی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بلکہ ان کی اطاعت خدا کی محبوبیت کا ذریعہ ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے فرمایا:"فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللہُ"۔یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب بندوں کے ایسے حالات سے خبردار ہیں جن کی خود ہمیں بھی خبر نہیں محبوب خدایا مردود بارگاہ ہونا ایک ایسی چھپی ہوئی حالت ہے جو کسی دلیل یا علامت سے معلوم نہیں ہوسکتی مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بھی خبردار ہیں اس ایک جملہ میں اس کے تقویٰ پر استقامت، ایمان پر خاتمہ،قبر و حشر میں نجات،جنت میں داخلہ،سب کی خبردے دی گئی،ظاہر یہ ہے کہ ان صحابی کو ہمیشہ نماز میں سورہ اخلاص پڑھنے کی اجازت دے دی گئی،یہ اجازت ان کی خصوصیات سے ہے دوسروں کے لیے یہ عمل مکروہ ہے اسی لیے دوسرے صحابہ نے یہ خوشخبری سن کر خود یہ عمل شروع نہ کردیا،لہذا یہ حدیث فقہی مسئلہ کے خلاف نہیں۔
Flag Counter