۱؎ یعنی روزانہ دس پاروں کی تلاوت مشکل ہے،ایک دو دن تو ہمت کرکے پڑھا جاسکتاہے۔
۲؎ شارحین نے اس جملہ کے بہت معنے کئے ہیں،بہترین معنے یہ ہیں کہ ایک بار"قُلْ ہُوَاللہُ اَحَدٌ"پڑھنے کا ثواب دس پارے تلاوت کرنے کے برابر ہے۔لہذا تین بار تلاوت کرلینے سے سارا قرآن شریف پڑھ لینے کا ثواب ہے۔ ختم شریف وغیرہ میں تمام سورتیں ایک ایک بار پڑھی جاتی ہیں مگر سورۂ اخلاص تین بار،اس عمل کی اصل یہ ہی حدیث ہے۔خیال رہے کہ قرآن کرم میں تین قسم کے مضامین ہیں: اﷲ تعالٰی کی ذات و صفات،قصے،احکام اور سورۂ اخلاص میں ذات و صفات الٰہی کا مکمل ذکر ہے،اس لیے یہ سورۃ قرآ ن کریم کے تہائی کا ثواب رکھتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حمد کی آیات دیگر آیات سے افضل ہے۔