۱؎ اس طرح کہ روزانہ ان کی تلاوت کرلیا کرے یا ہرجمعہ کو بعض لوگ ہر جمعہ کو سورۂ کہف کی تلاوت کرتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ دجال سے مراد وہ ہی بڑا دجّال ہے جو قرب قیامت نکلے گا ا س کا فتنہ اتنا سخت ہوگا کہ ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا یعنی اگر اس کی تلاوت کرنے والے کے زمانے میں دجال ظاہر ہوا تو ان شاءاﷲ اس کے فتنے سے یہ محفوظ رہے گا اور ہوسکتا ہے کہ دجال سے مراد تمام فتنہ گر بے دین لوگ مراد ہوں جیساکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد تیس دجال پیدا ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے ان آیات کی برکت سے یہ شخص ہر بے دین فتنہ گر کے شر سے بچا رہے گا۔ سورۂ کہف میں اصحاب کہف کا ذکر ہے کہ اﷲ تعالٰی نے انہیں کافر بادشاہ کے شر سے محفوظ رکھا ان کی آیات پڑھنے والے پر ان شاءاﷲ وہی فیضان ہوتا ہے بعض روایات میں تین آیات ارشا د ہوئیں مگر دس میں تین بھی داخل ہیں لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔