| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں جب حضرت جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے تو آپ نے اوپر سے آواز سنی ۱؎ تو آپ نے سر مبارک اٹھایا حضرت جبریل نے عرض کیا یہ آسمان کا وہ دروازہ کھولا گیا ہے جو آج کے سوا کبھی نہ کھولا گیا ۲؎ اس سے ایک فرشتہ اترا جبریل بولے یہ وہ فرشتہ زمین پر اترا ہے جو آج کے سوا کبھی نہ اترا ۳؎ اس نے سلام کیا پھر بولا آپ خوش و خرم ہوں ان دو نوروں سے جو آپ کو دیئے گئے ۴؎ آپ سے پہلے کسی کو نہ دیئے گئے ۵؎ سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقر کی آخری آیتیں ۶؎ ان دونوں کا ایک حرف بھی آپ نہ پڑھیں گے مگر آپ کو اس کا اجر ملے گا۷؎(مسلم)
شرح
۱؎ سمع کا فاعل حضرت جبریل علیہ السلام ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض شارحین نے فرمایا کہ حضرت جبریل علیہ السلام ہیں کیونکہ اگلی ضمیریں بھی انہیں کی طرف راجع ہیں نقیض نقض سے بنا بمعنی ٹوٹنا چونکہ لکڑی وغیرہ کے ٹوٹنے کے وقت سخت آواز پیدا ہوتی ہے،اس لیے اب ہر سخت آواز کو نقیض کہہ دیتے ہیں۔ ۲؎ خیال رہے کہ آسمان کے بے شمار دروازے ہیں،جن سے مختلف چیزیں آتی جاتی ہیں،بعض دروازوں سے رزق آتے ہیں، بعض سے عذاب بعض سے دعائیں و توبہ جاتی ہیں، بعض سے خاص فرشتے اترتے ہیں،ایک دروازہ وہ بھی ہے جو صرف معراج کی رات حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھولا گیا،آج کا یہ دروازہ اس فرشتے کے لیے کھولا گیا تھا اس سے پہلے نہ یہ فرشتہ کبھی زمین پر آیا تھا اور نہ یہ دروازہ کبھی کھلا تھا۔ ۳؎ یعنی نہ کسی کام کے لیے یہ زمین پر آیا نہ کسی پیغمبر کو کوئی پیغام سنانے کے لیے یہ فرشتہ صرف آج ہی آیااور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی خدمت میں آیا ہے اس فرشتہ کا نزول حضوانور صلی اللہ علیہ وسلم کی کرامت و عزت کے اظہار کے لیے ہے ورنہ یہ پیغام تو حضرت جبریل بھی عرض کرسکتے تھے۔ ۴؎ چونکہ یہ دونوں سورتیں دنیا میں سیدھے راستہ کی ہادی ہیں اورپلصراط پر روشنی جس کے ذریعہ ان کی تلاوت کرنے والا آسانی سے اسے طے کرلے گا۔اس لیے انہیں نور فرمایا۔ خیال رہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم خود نور ہیں پھر آپ پر یہ نور اترے تو بفضلہٖ تعالٰی نورٌ علے نور ہوئے۔ ۵؎ یعنی آپ سے پہلے نبیوں میں سے کسی کو ایسی شاندار آیات و سورتیں نہ ملیں تو ریت انجیل وغیرہ میں ایسی شان کی آیت نہیں،یوں تو سارا قرآن شریف ہی ان کتب سے افضل ہے مگر یہ آیات بہت ہی افضل۔ ۶؎ یعنی سورۃ بقر کا آخری رکوع"لِلہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ سے عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ"تک۔ ۷؎ یعنی ان آیات کے ہر حرف کی تلاوت پر آپ کو اور آپ کے صدقہ سے آپ کی امت کو خصوصی ثواب ملے گا علاوہ تلاوت کے ثواب کے کہ وہ ثواب تو قرآن شریف کے تمام حروف پر ہے۔(اشعہ)یا حرف سے مراد آیت ہے یعنی ان میں جو آیات دعا ہیں، ان میں سے ہر آیت قبول کی اور اس آیت کی دعا ان شاءاﷲ منظور ہوگی۔ مرقات ان دونوں جگہ میں بہت شاندار دعائیں ہیں۔