Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
349 - 5479
حدیث نمبر 349
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے فطرہ کی حفاظت پر مقرر فرمایا ۱؎ تو ایک شخص آیا غلے سے لپ بھرنے لگا ۲؎ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا میں تجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلوں گا ۳؎ وہ بولا میں محتاج ہوں میرے بال بچے ہیں اور مجھے سخت حاجت ہے ۴؎ فرماتے ہیں میں نے اسے چھوڑ دیا ۵؎ جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ آج رات تمہارے قیدی کا کیا بنا ۶؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ اس نے سخت حاجت اور بال بچوں کا عذر کیا اس پر میں نے رحم کیا تو اس کو رہا کردیا ۷؎ فرمایا وہ تم سے جھوٹ بول گیا اور وہ پھر لوٹے گا ۸؎ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے یقین ہوگیا کہ وہ لوٹ کر آئے گا میں اس کی تاک میں رہا ۹؎ وہ پھر آیا اور غلے کے لپ بھرنے  لگا میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا اب کے تو تجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور لے چلوں گا وہ بولا مجھے چھوڑ دیجئے میں محتاج ہوں اور مجھ پر بال بچوں کا بہت بوجھ ہے میں اب نہ آؤں گا،مجھے رحم آگیا اسے رہا کردیا ۱۰؎ جب صبح ہوئی تو مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ہریرہ تمہارے قیدی کا کیا بنا میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے سخت محتاجی اور بال بچوں کا عذر کیا مجھے اس پر رحم آگیا اسے رہا کردیا۱۱؎ فرمایا وہ تم سے جھوٹ بول گیا اور وہ پھر آئے گا مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمانے سے وہ پھر آئے گا یقین ہوگیا کہ وہ ضرور آئے گا میں گھات میں رہا وہ آیا غلے سے لپیں بھرنے لگا میں نے اسے پکڑ لیا تو کہا کہ اب تجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور لے چلوں گا یہ آخری تیسری بار ہے کہ تو کہہ جاتا ہے کہ نہ آئے گا پھر آجاتا ہے ۱۲؎ وہ بولا مجھے چھوڑ دیجئے میں آپ کو چند ایسے کلمات سکھائے دیتا ہوں کہ اﷲ ان کی برکت سے آپ کو نفع دے گا۱۳؎ جب آپ بستر میں جائیں۱۴؎ تو آیۃ الکرسی اﷲ لا الہ الا ھو الحی القیوم آخری آیت تک پڑھ لیں تو اﷲ کی طرف سے حافظ رہے گا۱۵؎ اور صبح تک شیطان آپ کے قریب نہ بھٹکے گا ۱۶؎میں نے اسے چھوڑ دیا ۱۷؎جب صبح ہوئی تو مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بنا تمہارے قیدی کا میں نے عرض کیا اس نے کہا کہ مجھے ایسے کلمات سکھائے گا جن سے اﷲ مجھے نفع دے گا،حضور نے فرمایا وہ ہے تو جھوٹا مگر تم سے سچ بول گیا۱۸؎ کیا جانتے ہو کہ تم تین دن سے کس سے گفتگو کررہے ہو میں نے کہا نہیں فرمایا یہ شیطان ہے ۱۹؎(بخاری)
شرح
۱؎ یعنی صحابہ کرام جو اپنے فطرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگا ہ میں حاضر کرجاتے تھے تاکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم خود فقراء میں تقسیم فرمادیں تاکہ آپ کے ہاتھ کی برکت سے رب تعالٰی قبول فرمالے اس جمع شدہ فطروں کی حفاظت اس دفعہ حضرت ابوہریرہ کے سپرد ہوئی۔

 ۲؎ یعنی فطرے کا گندم چرانے اور لے جانے لگا میں نے اسے یہ حرکت کرتے دیکھ لیا۔خیال رہے کہ ابلیس اور اس کی ذریت دانہ،غذائیں پھل،مٹھائیاں سب کچھ کھاتے ہیں،ساتھ ہی کوئلہ وغیرہ بھی کھاتے ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص بغیر بسم اﷲ پڑھے کھائے تو شیطان کھانے میں شریک ہوجاتا ہے،لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ ابلیس کے کھانے کی کیا حاجت اس سے معلوم ہوا کہ شیطان چوری کرتا ہے اس لیے آیۃ الکرسی وغیرہ مال پر دم کردی جائے تاکہ جن وانس کی چوری سے محفوظ رہے ۔

۳؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اولیاء اﷲ خصوصًا صحابہ کرام شیطان کو دیکھ سکتے ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کی برکت سے ان کی آنکھوں سے غیبی حجاب اٹھ جاتے ہیں،ان حضرات نے تو بار ہا فرشتوں کو دیکھا جن کی کیا حقیقت ہے دوسرے یہ کہ شیطان ان کی گرفت سے چھوٹ نہیں سکتا،وہ لوگ نورانی ہیں،نور کی طاقت نار سے زیادہ ہے جن کا ہاتھ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہو اس کی گرفت سے کون چھوٹے۔ تیسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے شیطان گھبراتا ہے،وہاں حاضری کی ہمت نہیں کرتا۔ خیال رہے کہ قرآن کریم شیطان کے متعلق فرماتا ہے:"اِنَّہٗ یَرٰىکُمْ ہُوَ وَقَبِیۡلُہٗ مِنْ حَیۡثُ لَا تَرَوْنَہُمْ "کہ وہ اور اس کی ذریت تو تم کو دیکھتے ہیں مگر تم ان کو نہیں دیکھتے،آیت کا منشا یہ ہے کہ تم ان جنات کو ان کی اصل شکل میں نہیں دیکھ سکتے لیکن جب وہ شکل انسانی میں ہوں،تو انہیں دیکھا جاسکتا ہے لہذا یہ حدیث قرآن کے خلاف نہیں،مرقات یا آیت میں عام انسانوں کا ذکر ہے اور یہاں اﷲ کے خاص بندوں کا تذکرہ ۔

۴؎ ادائے قرض وغیرہ معلوم ہوا کہ شیطان جھوٹ بولتا ہے۔وہ نہ محتاج ہے نہ اس کے بال بچوں کو فاقہ ہے،دفینے کانیں اس کی نگاہ میں ہیں سفلی عمل کرنے والوں کو وہ روزانہ مال پہنچاتا ہے،جسے ناجائز دست غیب کہا جاتا ہے جائز دست غیب رب تعالٰی کی رحمت ہے،ناجائز دستِ غیب حرام ۔

۵؎ یا اس لیے چھوڑ دیا کہ ابھی اس نے چوری نہیں کی تھی ارادہ ہی کیا تھا یا چوری تو کرلی تھی مگر چوری حاکم کے پاس پہنچنے سے پہلے حق العبد رہتی ہے اور وہاں پہنچ کر حق اﷲ بن جاتی ہے،پہلی صور ت میں بندہ اس سے مال چھین کر اسے چھوڑ سکتا ہے۔ دوسری صورت میں بندہ معاف نہیں کرسکتا ہاتھ ہی کٹیں گے یا اس لیے کہ اگر زکوۃ و خیرات سے فقیر چوری کرے تو ہاتھ نہ کٹیں گے کیونکہ اس مال میں اس کا بھی حق ہے جیسے بیوی بخیل خاوند کے مال سے اپنے حق کے بقدر چوری کرے تو مجرم نہیں کہ اس نے چوری نہیں کی بلکہ اپنا حق لیا بہرحال حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ انہیں چور کو چھوڑ دینے کا کیا حق تھا۔

۶؎ یعنی جب میں نماز فجر کے لیے حاضر بارگاہ ہوا تو بغیرمیرے کچھ عرض کئے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سوال فرمایا معلوم ہوا کہ حضورا نور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ ہر ظاہر و چھپی چیزیں دیکھتی ہیں کوئی چیز ان سے مخفی نہیں وہ توقبر کے اندر کے عذاب اور دلوں کے حال سے خبردار ہیں۔مصرع		چشم توبینندہ ما فی الصدور 	(اقبال)

۷؎ اس جملہ میں فقیر کی عرض کی ہوئی توجیہ کی تائید ہوئی کہ حضرت ابوہریرہ کو اس پر رحم کرنے کا بھی حق تھا اور چھوڑ دینے کا بھی اسی لیے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے آپ پر عتاب نہ فرمایا کہ ابو ہریرہ تمہیں چھوڑ دینے کا کیا حق تھا۔

۸؎ اس سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا علم غیب ثابت ہوا ۔معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو آئندہ ہونے والے واقعات کا ر ب تعالٰی نے علم بخشا جو آئندہ ہونے والا ہے وہ بتارہے ہیں۔شعر

خدا مطلع ساخت برجملہ غیب	 		علی کل شیئ خبیر آمدی

۹؎ یعنی آج شب کو میں خوب چوکنا رہا سویا نہیں،غافل نہ رہا،اسے پکڑنا بھی تھا اور اس کا تماشا بھی دیکھنا تھا۔

۱۰؎ حضرت ابوہریرہ نے اس کا یہ قول کہ اب نہ آؤں گا اس کی توبہ سمجھا اس لیے چھوڑ دیا،اسے سچا نہ سمجھا،کیونکہ اس کا جھوٹا ہونا تو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے معلوم ہوچکا تھا یہ رحمت اس کی توبہ پر ہے نہ کہ اسے غریب سمجھ کر اس بار بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوہریرہ پر عتاب نہ فرمایا لہذا حدیث بالکل واضح ہے کوئی اعتراض نہیں یا آپ نے خیال فرمایا کہ یہ جھوٹ سے توبہ کرچکا ہے اور اب سچ بول رہا ہے پہلے جھوٹا تھا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے گزشتہ جھوٹ کی خبر دی تھی اور اب سچ بول رہا ہے۔

۱۱؎ اس رحم کی وجہ ابھی عرض کردی گئی اس چھوڑ دینے میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پاک کی مخالفت نہیں ہے کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آئندہ چھو ڑ دینے سے منع نہ کیا تھا۔

۱۲؎ خیال رہے کہ شیطان نے صرف ایک دفعہ یعنی دوسری بار میں ہی کہا تھاکہ میں اب نہ آؤں گا مگر حضرت ابوہریرہ فرمارہے ہیں کہ تو کہہ جاتا ہے میں نہ آؤں گا اس لیے شارحین نے فرمایا کہ یہاں تزعم مضارع ہے مگر بمعنی ماضی ہے یعنی تو کہہ گیا تھا اب نہ آؤں گا اور پھر آگیا یا حکمی و حقیقی دونوں طرح کہہ جانا مراد ہے یعنی تو پہلی بار میں حکمًا اور دوسری بار میں حقیقتًا کہہ گیا تھا کہ اب نہ آؤں گا لہذا یہ حدیث واضح ہے۔

 ۱۳؎ یعنی میں آپ پر ایک عمل مجرب بتا کر احسان کرتا ہوں آپ اس کے عوض مجھ پر یہ احسان کردیں کہ مجھے چھوڑ دیں کیونکہ احسان کا بدلہ احسان ہوتا ہے ابلیس کی اس خوشامد سے معلوم ہوا کہ وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہوئے بہت گھبراتا ہے ورنہ وہ حاضر ہوجانے پر راضی ہوجاتاہے اب جس کے دل میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت نہ ہو وہ شیطان سے بدتر ہے شیطان یا تو خدا سے ڈرتاہے کہ کہتاہے:"اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللہَ رَبَّ الْعٰلَمِیۡنَ"یا جناب مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمان کے دل میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ہی ہیبت چاہیے ڈاکٹر ا قبال یوں دعا کر تے ہیں۔شعر

مکن رسوا بروئے خواجہ مارا			حساب من زچشم اونہاں گیر

۱۴؎ یعنی سونے کے لیے لیٹیں بستر پر یا فرش خاک پر یا تخت پر،بستر کا ذکر عرف کی بنا پر ہے اور سونا خواہ دن میں ہو یا رات میں۔

 ۱۵؎ یعنی خود رب تعالٰی یا اس کا مقرر کردہ،فرشتہ آپ کے جان و مال کی حفاظت کرے گا کہ گھر تو گر جانے آگ لگ جانے وغیرہ سے محفوظ رہے گا اور مال چوری وغیرہ سے امان میں رہے گا جیسا کہ دوسری احادیث میں وارد ہے،یہ عمل بہت ہی مجرب ہے۔

 ۱۶؎ یعنی دینی یا دنیاوی نقصان پہنچانے کے لیے شیطان ابلیس آپ کے قریب نہ آسکے گا،مطلقًا قریب آنے کی نفی نہیں لہذا حدیث پریہ اعتراض نہیں رہا کہ بار ہا دیکھا گیا ہے کہ ہم آیۃالکرسی پڑھ کر سوتے ہیں پھربھی احتلام ہوجاتا ہے اور احتلام شیطان سے ہوتا ہے ہاں آیۃ الکرسی کی برکت سے شیطان نماز قضا نہ کراسکے گا کہ یہ دینی نقصان ہے یوں ہی اس کی برکت سے اولًا تو گھر میں چور سانپ وغیرہ آئیں گے نہیں اگر اتفاقًا آگئے تو شیطان اسے اس موقعہ پر غافل نہ کرسکے گا کہ اس میں دنیاوی نقصان ہے،ان شاءاﷲ آنکھ کھل جائے گی اور یہ شخص ان کے شر سے محفوظ رہے گا۔

۱۷؎ اس بار رحم کھا کر نہ چھوڑا بلکہ اس کے احسان کے عوض اور اس چھوڑ دینے میں بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت نہ تھی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہ کیا تھا۔

۱۸؎ اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ شیطان قرآن شریف سے بھی واقف ہے اور آیات قرآنیہ کے احکام و اسرار واشارات سے بھی خبردار ہے،امام فخرالدین رازی نے فرمایا کہ شیطان ہر دین کے اچھے برے اعمال سے تفصیل وار واقف ہے اور ہر شخص کی نیت وارادہ پر مطلع ہے،اس کے بغیر وہ خلق کو بہکا نہیں سکتا،جب اس بہکانے والے کے علم کا یہ حال ہے تو خلق کے ہادی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کا کیا پوچھنا۔دوا کی طاقت بیماری سے زیادہ چاہئیے قرآن کریم فرماتاہے:"اِنَّہٗ یَرٰىکُمْ ہُوَ وَقَبِیۡلُہٗ مِنْ حَیۡثُ لَا تَرَوْنَہُمْ"شیطان اور اس کی ذریت تم سب کو دیکھتے ہیں مگر تم انہیں نہیں دیکھے یعنی وہ حاضر ناظر ہے کیوں، لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے تو جس کے ذمہ خلق کی ہدایت ہے وہ بھی حاضر و ناظر ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔ دوسرے یہ کہ شیطان کافر بھی کبھی سچ بول دیتا ہے۔ تیسرے یہ کہ مؤمن کو چاہئیے جہاں سے اسے علم ملے لے لے،ہاں بے دین کو استاد دین کا نہ بنائے یہاں حضرت ابوہریرہ نے شیطان کو استاد نہ بنایا جیسے قابیل کو کوے نے طریقہ دفن سکھایا،مگر کوا ان کا استاد نہ تھا۔خیال رہے کہ کافر و بے دین کی اچھی بات پر جلد اعتماد نہ کرے ممکن ہے وہ شہد میں زہر دے رہا ہوں،یہاں جناب ابوہریرہ نے شیطان کی جب مانی جب کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تائید و تصدیق فرمادی۔ چوتھے یہ کہ آیۃ الکرسی دفع شیطان کے لیے اکسیر ہے خود شیطان اس کی خبر دے گیا کہ میرے بھاگنے کا ذریعہ آیۃ الکرسی ہے بھگانے والے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تائید فرمادی،اور بھاگنے والے مردود نے بھی اس کی خبر دے دی۔ پانچویں یہ کہ کافر کی سچی بات کی مسلمان تصدیق و تائیدکرسکتا ہے۔

 ۱۹؎ یعنی ابلیس تھا جو اس مال میں برکت مٹانے آیا تھا ورنہ اسے چوری کرنے کی کیا ضرورت تھی،یہ حدیت تسخیر جنات کی اصل ہے،بعض عامل حصرات جنات کو اپنے عمل سے قیدکردیتے ہیں۔بالکل حق ہے دلیل یہ حدیث ہے،فقیر کی اس مذکور شرح سے حسب ذیل اعتراضات اٹھ گئے:اول یہ کہ حضرت ابوہریرہ کو شیطان نظر کیسے آگیا۔قرآن پاک فرماتا ہے کہ تم اسے نہیں دیکھ سکتے،دوسرے یہ کہ حضرت ابوہریرہ کی گرفت میں شیطان کیونکر آگیا،وہ ہوا یا آگ کے شعلہ کی طرح ہے جسے پکڑا نہیں جاسکتا۔ تیسرے یہ کہ شیطان کو چوری کی کیا ضرورت ہے، چوتھے یہ کہ حضرت ابوہریرہ کو اسے پکڑ کر چھوڑ دینے کا کیا حق تھا،پانچویں یہ کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا تھا کہ وہ جھوٹا ہے اور پھر آئے گا تو جناب ابوہریرہ نے اس کی بات کا اعتبار کیوں کیا۔چھٹے یہ کہ شیطان کو کیا خبر کہ قرآن کریم کی کس آیت میں کیا تاثیر ہے ساتویں یہ کہ اس سے لازم آیا کہ شیطان حضرت ابوہریرہ کا استاد ہو۔
Flag Counter