Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
346 - 5479
حدیث نمبر 346
روایت ہے حضر ت ابو امامہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ قرآن پڑھا کرو ۱؎ کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا سفارشی آئے گا ۲؎ دو چمکدار سورتیں یعنی سورۂ بقرہ و آل عمران پڑھا کرو۳؎ یہ دونوں قیامت کے دن یوں آئیں گی جیسے بادل کے ٹکڑے یا سائبان یا صف بستہ چڑیوں کی ٹولیاں ہیں۴؎ اپنے پڑھنے والوں کیطرف سےجھگڑیں گی ۵؎ سورۂ بقر پڑھا کرو اس کالینا برکت ہے اور اس کا چھوڑنا حسرت۶؎ جسے جھٹلانے والے جھٹلا نہیں سکتے ۷؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی ہمیشہ تلاوت کیا کرو اور اس موقعہ کو غنیمت جانو قرآن کریم کی تلاوت مستقل عبادت ہے معنی سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں مرکب دوائیں معجونیں مفید ہیں ان کے اجزاء معلوم ہوں یا نہ ہوں۔

۲؎ گنہگاروں کی مغفرت کی سفارش کرے گا نیک کاروں کی بلندی درجات کی صحابہ سے مراد قرآن کی تلاوت کرنے والے، اس کو سیکھنے سکھانے ، اس پر عمل کرنے والے  سب ہی مراد ہوتے ہیں مگر یہاں تلاوت کرنے والے مراد ہیں جیساکہ اس مضمون سے ظاہر ہے۔

۳؎ مرقات نے فرمایا کہ یہ دونوں سورتیں باقی سورتوں میں ایسی ہیں،جیسے تاروں میں چاند اس لیے انہیں زہرا دین یعنی چمک دار سورتیں  فرمایا گیا ورنہ سارا قر آن نور ہے لہذا حدیث واضح ہے ۔

۴؎ یہ تین تشبیہیں تین قسم کے تلاوت کرنے والوں کے لحاظ سے ہیں،جیسا قاری کا اخلاص کل قیامت میں ویسا ہی ان کا سایہ، بہت مخلص کے لیے یہ سورتیں ابر رحمت بن کر سایہ بھی کریں گی اور روشنی بھی دیں گی درمیانی اخلاص والے کے لیے سائبان و شامیانہ کی طرح اور معمولی اخلاص والے کے لیے پرندوں کی جماعت کی طرح یہ شک راوی کو نہیں ہے جیسا کہ بعض شارحین نے سمجھا،نیز یہاں ثواب تلاوت مراد نہیں بلکہ خود یہ سورتیں کل ان شکلوں میں ہوں گی یہاں کے عرض اور اعمال وہاں جسم و جوہر ہوں گے آج ہم خواب میں آئندہ حالات کو جسمانی شکل میں دیکھتے ہیں بادشاہ مصر نے آئندہ قحط کے سات سال گایوں اور بالیوں کی شکل میں دیکھے تھے۔

۵؎ یا تو اس کے دشمنوں سے جھگڑا کریں گی یا عذاب کے فرشتوں سے جھگڑکر اسے چھڑائیں گی یا خود رب تعالٰی سے جھگڑ جھگڑ کر اسے بخشوائیں گی مگر یہ جھگڑا ناز کا ہوگا نہ کہ مقابلہ کا آج پیارا بیٹا اپنے باپ سے جھگڑکر دوسروں کی سفار ش کر تا ہے لہذا حدیث واضح ہے کوئی اعتراض نہیں۔

۶؎ یعنی قیامت میں ان سورتوں کے پڑھنے والے کا ثواب دیکھ کر نہ پڑھنے والے کف افسوس ملیں گے،جنتی لوگ تمنا کریں گے کہ کاش ہم نے دنیا میں ایک سانس بھی بغیر ذکراﷲ کے نہ لی ہوتی۔

۷؎ اس جملہ کے کئی معنے ہیں ایک یہ منافقین ریاء کا ر یہ سورتیں یاد نہ کرسکیں گےیا ان کی تلاوت نہ کرسکیں گے یا انہیں یہ دونوں سورتیں بہت دراز اور گراں معلوم ہوں گی مخلصین پر آسان ہوں گی۔دوسرے یہ کہ جادو گر وغیرہ ان سورتوں کا اثر اپنے جادو کے زور سے زائل نہیں کرسکتے اور ان کی تلاوت کرنے والے کو نقصان نہیں پہنچاسکتے۔ تیسرے یہ کہ ان کی صداقت اس قدر ظاہر ہے کہ انہیں جھوٹے لوگ جھٹلا نہیں سکتے۔
Flag Counter