۱؎ یعنی گھروں میں مردے دفن نہ کرو کہ یہ تو خصوصیت انبیاء ہے یا اپنے گھروں کو ذکر اﷲ سے خالی نہ رکھو جیسے قبرستان خالی ہوتا ہے ایسے گھر قبرستان ہیں اور وہاں کے باشندے مردے دوسرے معنے زیادہ موزوں ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ خیال رہے کہ مؤمن مردے اپنی قبروں میں ذکر اﷲ کرتے ہیں،مگر وہ ذکر ہم نہیں سنتے،ہم کو قبرستان سنسان معلوم ہوتا ہے اسی لیے یہ ار شاد ہوا،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
۲؎ یعنی شیاطین کا سرگروہ ابلیس اس گھر سے دور رہتا ہے یا سورۂ بقر پڑھتے وقت قریں شیطان دور رہتا ہے اگرچہ بعد میں آجائے یا اس گھر کے باشندوں کو وہ جنت سے بہکا نہیں سکتا،انہیں بے دین بے ایمان نہیں بناسکتا،ان شاءاﷲ لہذا حدیث واضح ہے۔ خیال رہے کہ شیطان کو دفع کرنیکی یہ تمام تدابیر ہیں ،نفس امارہ ان سے نہیں مرتا اس کی موت اس کی مخالفت سے ہے اسی لیے اگرچہ رمضان میں شیطان قید ہوتا ہے مگر لوگ گناہ کرتے ہیں نفس امار ہ موجود ہے۔