Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
347 - 5479
حدیث نمبر 347
روایت ہے حضرت نواس ابن سمعان سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ قیامت کے دن قرآن اور قر آن والے جو اس پر عمل کرتے تھے یوں بلائے جائیں گے ۱؎ کہ سورۂ بقر و آل عمران آگے آگے ہوں گی گویا سفید بادل ہیں یا کالے شامیانے ۲؎ جن کے درمیان کچھ فاصلہ ہوگا۳؎ گویا وہ صف بستہ پرندوں کی دو ٹولیاں اپنے عاملوں کیطرف سے جھگڑتی ہوں گی ۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ عزت عظمت کے ساتھ وفد کی شکل میں بارگاہ الٰہی میں پیشی کے لیے لائے جائیں گے رب تعالٰی فرماتاہے:"یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیۡنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا وَّ نَسُوۡقُ الْمُجْرِمِیۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ وِرْدًا"۔

۲؎ یعنی یہ سورتیں بعض بڑے مخلصین کے لیے سفید بادل کی طرح اور ان سے کم درجہ والوں کے لیے سیاہ شامیانہ کیطرح اوپر سایہ کئے ہوں گی،جن سے یہ لوگ گرمی محشر سے محفوظ ہوں گے یہ بادل و شامیانے ان لوگوں کے ساتھ چلتے ہوں گے تمام محشر والے انہیں دیکھتے ہی پہچان لیں گے کہ یہ حضرات قرآن پاک کی تلاوت کرنے والے اور اس پر عمل کرنے والے ہیں،اب جو کہے کہ قیامت میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو مؤمن و کافر کی بھی پہچان نہ ہوگی وہ جھوٹا ہے۔

۳؎ عربی میں شرق بکری کے کان کی پھٹن کو کہتے ہیں،یہاں اس سے ان دونوں سورتوں کے درمیان فاصلہ مراد ہے یہ فاصلہ بسم اﷲ شریف کا ہوگا،یہاں بھی بسم اﷲ ہی دو سورتوں میں فاصلہ و فرق کرتی ہے،بعض نے فرمایا کہ شرق بمعنی نورو چمک ہے یعنی ان دونوں سورتوں کے درمیان روشنی ہو گی۔ مقصد یہ ہے کہ سورتیں خود گہرے بادل کی طرح ہوں گی مگر ان سے اندھیرا نہ ہوگا بلکہ محشر کی جگمگاہٹ ان کے نیچے ہی محسوس ہوگی،یہ چمک سورج وغیرہ کی نہ ہوگی نور الٰہی کی ہوگی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوۡرِ رَبِّہَا"۔

۴؎ یعنی اللہ تعالٰی سے جھگڑ جھگڑ کر اپنے قاری  عاملین وعالمین کو بخشوائیں گی پہلے عرض کیاجاچکاہے کہ یہ جھگڑا مقابلہ کا نہ ہوگا بلکہ نازو انداز کا ہوگا رب تعالٰی ہم کو بھی ان سورتوں کی شفاعت نصیب کرے آمین۔
Flag Counter