Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
344 - 5479
حدیث نمبر 344
روایت ہے حضرت ابوسعید ابن معلے سے فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا ۱؎ کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا میں نے جواب نہ دیا پھر میں حاضر ہوا ۲؎ اور عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز پڑھ رہا تھا فرمایا کیا اﷲ تعالٰی نے یہ نہیں فرمایا کہ اﷲ رسول جب تمہیں بلائیں تو فورًا جواب دو ۳؎ پھر فرمایا کہ کیا میں تمہیں تمہارے مسجد میں جانے سے پہلے قرآن کریم کی عظیم الشان سورۃ نہ بتاؤں ۴؎ پھر حضور نے میرا ہاتھ پکڑا جب باہر نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا تھا کہ میں تم کو قرآن کریم کی عظیم الشان سورہ بتاؤں گا ۵؎ فرمایا وہ الحمدﷲ رب العلمین ہے یہ تو وہ سات مکرر آیتیں ہیں اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا ہوئیں ۶؎(بخاری)
شرح
۱؎ یہ حضرت مسجد نبوی شریف میں حاضر ہوئے جبکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم برسرمنبر خطبہ ارشاد فرمارہے تھے اور آیت"قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآءِ" تلاوت فرما رہے تھے انہوں نے تحیۃ المسجد نفل کی نیت باندھ لی ایک گوشہ میں نماز پڑھنے لگے۔

 ۲؎ یعنی میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بلاوا سن لیا مگر نماز کی مشغولیت کی وجہ سے حاضر نہ ہوا پھر بعد سلام حاضر ہوا اور معذرت کے لیے یہ عرض کیا۔

۳؎ یہاں اﷲ رسول کے بلانے سے مراد حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا بلانا ہے ورنہ رب تعالٰی بلاواسطہ کسی کو نہیں بلاتا اس لیے دَعَا واحد کا صیغہ ارشا دہوا۔(مرقاۃ)اس فرمان سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اگر عین نماز میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو بلائیں تو اسی وقت اسی حالت میں حاضر بارگاہ ہوجانا واجب ہے۔دوسرے یہ کہ اس حاضر ہوجانے سے بلکہ جو خدمت سرکار فرمائیں اس کے بجالانے سے نماز ٹوٹے گی نہیں وہ نماز ہی میں رہے گا،اور خدمت سے فارغ ہو کر بقیہ رکعتیں پوری کرے گا جیسے حضور سے خطاب اور حضور کو سلام نماز نہیں توڑتا،ایسے ہی حضور کی یہ اطاعت نماز فاسد نہیں کرتی۔(مرقات)نمازی وضو ٹوٹنے پر پانی کے پاس جائے تو نماز نہیں جاتی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم تو رحمت الٰہی کا سمندر ہیں آپ کے پاس آنے سے نماز کیسے جائے گی۔

 ۴؎ پہلے سے یہ فرماکر منتظر بنادیا،تاکہ خوب یاد رکھیں جو بات انتظار کے بعد ملے،اس کی قدر ہوتی ہے،سورۃ قرآن شریف کا وہ حصہ ہے جس میں مضمون مکمل ہو اور اس کا نام بھی ہو۔ یہاں مرقات نے فرمایا کہ تمام آسمانی کتابوں کے مضامین قرآن شر یف میں ہیں۔اور سارے قرآن شریف کے مضامین سورۂ فاتحہ میں اور ساری سورۂ فاتحہ کے مضامین بسم اﷲ میں اور ساری بسم اﷲ کے مضامین اس کے ب کے نقطہ میں۔ دیکھو ریلوے ٹائم ٹیبل یا جغرافیہ میں پورے ملک یا پورے شہر کی طرف ایک نقطہ سے اشارہ کردیا جاتا ہے اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ فاتحہ کو بڑی سورہ فرمایا اور ہر رکعت میں یہ دہرائی جاتی ہے۔

 ۵؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا وعدہ یاد تھا مگر آپ نے ابتدًا نہ تعلیم دی تاکہ ان کے اپنے شو ق کا پتہ لگےکہ انہوں نے یہ بات یاد رکھی یا نہیں اور ان کا شوق پورا ہے یا نہیں۔

 ۶؎ خلاصہ فرمان یہ ہے کہ سورہ فاتحہ بہت سی خوبیوں کی جامع سورۃ ہے اس میں حمد الہٰی، نعت پاک مصطفوی،وعدے وعیدیں، حشر و نشر کا ذکر ،محبوب و مردود بندوں کا تذکرہ،رب تعالٰی سے سوال کی تعلیم،دین برحق کی پہچان وغیرہ تمام مضامین ہیں دیکھو ہماری تفسیر نعیمی کلاں،اس میں سات آیتیں ہیں جو نماز کی ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ان کا نزول دوبار ہوا ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے بعد یہ سورۃ سات حرفوں سے خالی ہے:ث،ج،خ،ز،ش،ظ،ف لہذا یہ سبع مثانی ہے یعنی سات مقرر آیتیں،نیز یہ سورت اس امت کی خصوصیات سے ہے کسی کو ہم سے پہلے نہ ملی،اس لیے رب تعالٰی نے اس کی عطاء کا خصوصیت سے ذکر فرمایا کہ ارشاد ہوا:"وَلَقَدْ اٰتَیۡنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیۡ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیۡمَ"اگرچہ قرآن پاک میں یہ سورۃ بھی تھی مگر اس کا ذکر مستقل طور پر فرمایا لمعات،مر قات۔اس سے معلو م ہوا کہ قرآن کی بعض سورتیں بعض سے اعلیٰ و افضل ہیں اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے۔
Flag Counter