Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
343 - 5479
حدیث نمبر 343
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص سورۂ کہف پڑھ رہا تھا اس کے پہلو میں دراز رسیوں سے گھوڑا بندھا تھا تو ان پر ایک بادل چھا گیا وہ جھکنے لگا اور خوب جھکنے لگا اور ان کا گھوڑا بدکنے لگا ۱؎ پھر جب صبح ہوئی تو وہ صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ ماجرا عرض کیا فرمایا یہ سکینہ رحمت ہے جو قرآن کی وجہ سے اتری ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ گھوڑے کا یہ بدکنا ایک عجیب چیز کے نظارہ کیوجہ سے تھا جیساکہ عرض کیا گیا۔

۲؎ فرشتوں کی ایک جماعت کا نام سکینہ ہے چونکہ ان کے اترنے سے مؤمن کے دل کو سکون و چین حاصل ہوتا ہے اس لیے اسے سکینہ کہتے ہیں مؤمن پر بعض خاص حالات میں بھی اور خاص عبادات کے موقعہ پربھی یہ فرشتے اترتے ہیں رب تعالٰی ہجرت کے غار کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے حضرت صدیق اکبر کے متعلق فرماتا ہے:"فَاَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ عَلَیۡہِمْ"۔صدیق اکبر کو اس وقت حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت غم اور کفار کا اندیشہ تھا اسی لیے ان پر سکینہ اتری۔خیال رہے کہ بزرگوں کے تبرکات سے بھی سکون قلبی نصیب ہوتا ہے انہیں بھی رب تعالٰی نے سیکنہ فرمایا ہے۔چنانچہ تابوت سکینہ جس میں حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کے تبرکات عمامہ نعلین وغیرہ تھے ان کے متعلق رب تعالٰی فرماتاہے:"فِیۡہِ سَکِیۡنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوۡسٰی وَاٰلُ ہٰرُوۡنَ تَحْمِلُہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ"۔بعض لوگ قبروں پرتلاوت قرآن پاک کراتے ہیں تاکہ اس تلاوت سے میت کو سکون قلبی نصیب ہو اس کا ماخذ یہ حدیث ہے اور بعض لوگ اپنی قبروں میں اپنے بزرگوں کے تبر کات عمامہ وغیرہ اور اپنا شجرہ آیات قرآنیہ رکھ دینے کی وصیت کرتے ہیں تاکہ سکون قبر میسر ہو ان کا ماخذ قرآن کریم کی مذکورہ آیت ہے۔ صحابہ کرام نے اپنے کفنوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ناخن،بال تہبند شریف رکھوائے،خود حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی بی بی زینب کے کفن میں اپنا تہبند شریف رکھا اس کی بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں ملاحظہ فرمایئے۔
Flag Counter