Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
342 - 5479
حدیث نمبر 342
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ حضرت اسید ابن حضیر ۱؎ فرماتے ہیں اس اثناء میں کہ وہ رات میں سورہ بقر پڑھ رہے تھے ان کا گھوڑا ان کے پاس بندھا تھا کہ گھوڑا کودنے لگا ۲؎ وہ خاموش ہوگئے تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا انہوں نے پھر پڑ ھا تو گھوڑا پھر کودا وہ پھر چپ ہوگئے تو گھوڑا پھر ٹھہر گیا انہوں نے پھر پڑھا تو گھوڑا پھر کودا آپ نے قرأت بند کردی ۳؎ ان کا بیٹا یحیی گھوڑے سے قریب تھا آپ ڈرے کہ گھوڑا اس تک پہنچ جائے جب انہوں نے یحیی کو ہٹایا تو اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا دیکھا کہ شامیانہ کیطرح ہے جس میں چراغ جیسے ہیں ۴؎ جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واقعہ عرض کیا ۵؎ فرمایا اے ابن حضیر پڑھا کرو اے ابن حضیر پڑھا کرو ۶؎ عرض کیا یارسول اﷲ میں ڈرا کہ یحیی کو گھوڑا روند دے یحیی اس سے قریب ہی تھے تو میں ان کے پاس چلا گیا ۷؎ اور میں نے آسمان کیطرف سر اٹھایا تو شامیانہ سا تھا جس میں چراغ جیسی چیزیں تھیں۸؎ میں باہر آگیا حالانکہ وہ نظر نہ آئیں فرمایا کیا جانتے ہو یہ کیا تھا عرض کیا نہیں فرمایا یہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز پر جھک پڑے تھے ۹؎ اگر تم پڑھتے رہتے فرشتے اس طرح سویرا کر دیتے لوگ انہیں دیکھتے فرشتے ان سے نہ چھپتے ہیں ۱۰؎ مسلم،بخاری،لفظ بخاری کے ہیں مسلم میں بجائے متکلم فخر جت کے یوں ہے کہ وہ شامیانہ اوپر چڑھ گیا۱۱؎
شرح
۱؎ آپ نقباء انصار میں سے ہیں جلیل القدر صحابی ہیں ۲۰ یا    ۲۱ ھ؁ میں وفات پائی حضرت عمر نے آپ کا جنازہ اٹھایااور نماز پڑھائی۔

۲؎ غالبًا یہ تہجد کا وقت تھا،آپ نماز تہجد سے فارغ ہو کر تلاوت قرآن کررہے تھے آخر شب میں نماز کے سواء تلاوت بھی ثواب ہے عمل صحابہ ہے۔

 ۳؎ بچے کی جان کے خوف سے اور اس واقعہ میں غور و تامل کرنے کے لیے کیونکہ تلاوت میں سکون قلبی نہ رہا تھا دل اور طرف متوجہ ہوگیا تھا سکون قلب حاصل کرنے کے لیے یہ تلاوت بند فرمائی،اگر نمازی کو عین نماز کی حالت میں سانپ بچھو نظر آئے تو انہیں مارا سکتا ہے تاکہ سکون دل میسر ہوا لہذا اس واقعہ پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ آپ نے دنیاوی وجہ سے دینی کام کیوں بند کردیایہ بندکرنا نہیں بلکہ اس کو کامل بنانے کی تدبیر ہے۔

 ۴؎ غالب یہ ہے کہ شامیانہ روزانہ ہی ان کی تلاوت پر لگ جاتا تھا مگر آج ان کی نگاہ سے حجاب اٹھا دیئے گئے ہیں اس لیے آپ کی نگاہوں نے اسے دیکھ بھی لیا،بلکہ آپ کی فیض صحبت سے آپ کے گھوڑے نے بھی اسے دیکھ لیا۔

 ۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ مرید اپنے شیخ کی خدمت میں قلبی واردات اور خفیہ اثرات اعمال کی مخفی تاثیریں عرض کرسکتا ہے اس میں ریاءنہیں،بلکہ کبھی اس سے اپنی خامی دور ہوتی ہے اور کبھی مدارج میں ترقی ہوتی ہے مریض اپنا ہر حال طبیب سے عرض کرتا ہے حصول صحت کے لیے غرضکہ ان امور کا اظہار عوام پر نہ کرے،خَواص پر خصوصًا اپنے شیخ پر کرے۔

۶؎ یعنی آئندہ بھی تلاوت قرآن کیا کرو ان جیسے واقعات دیکھ کر گھبرانا نہیں یہ ڈرنے کی چیز نہیں ہے یہ ہی شرح زیادہ ظاہر ہے بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ امر بمعنی ماضی ہے یعنی تم نے اور زیادہ تلاوت کی ہوتی بند کیوں کردی اور دوسری شرح کی بنا پر اگلا جواب بالکل ظاہری ہے جو حضرت اسید نے عرض کیا۔

 ۷؎ یعنی دل تو میرا بھی چاہتا تھا کہ تلاوت خوب کروں کسی سستی وغیرہ کی وجہ سے میں نے تلاوت بند نہ کی،بلکہ واقعہ یہ پیش آیا جس کی وجہ سے مجھے تلاوت بند کرنی پڑی۔

۸؎ اس عجوبہ کو پہلے گھوڑے نے دیکھا جس سے وہ بدکا،پھر میں نے اسے دیکھا اس کا بدکنا میرے دیکھنے کا باعث بنا۔

۹؎ حضرت اسید کا ان فرشتوں کو دیکھ لینا اس وجہ سے ہوا کہ آج رب تعالٰی نے ان کی آنکھ سے غیبی حجابات اٹھا دیئے تھے جیسے ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے تیز بارش دیکھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کو دفن کرنے قبرستان تشریف لے گئے تھے واپسی پرآپ نے عرض کیا کہ حضور اس بارش میں آپ کہاں تھے بھیگے کیوں نہیں،فرمایا تمہارے سر پرکیا کپڑا ہے عرض کیا آپ کا تہبند فرمایا اس تہبند کی برکت سے تم نے یہ غیبی نورانی بارش دیکھ لی،ورنہ یہ بار ش کسی کو نظر نہیں آتی،مثنوی شریف میں ا س واقعہ کا تفصیلی ذکر فرمایا ہے،جس کے آخری اشعار یہ ہیں۔

گفت چہ بر سر فگندی از ازار			گفت کردم آں ردائے تو خمار

گفت بہرآں نمود اے پاک حبیب		 چشم پاکت را خدا باران غیب

نیست ایں با راں ازیں ابر شما			نیست باراں دیگر و دیگر سما

بعض بزرگ مرید کے سر پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں تو اس کی آنکھ سے غیبی حجاب اٹھ جاتے ہیں اور عالم غیب کا مشاہدہ کرلیتا ہے مولانا فرماتے ہیں شعر۔

سرمہ کندرچشم خاکِ اولیاء 			تابہ بینی زابتداتا انتہاء

۱۰؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ فرشتے پرے باندھ کر ان کی تلاوت سن رہے تھے ان کے سامنے شامیانہ کیطرح حجاب بن گئے۔ان کے چہرے چراغوں کی طرح چمک رہے تھے نورانی اجسام کا ازدہام آڑ بن سکتا ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ایسا ہی ہے جیسے فرمایا آج ہم نے شیطان پکڑ لیا تھا چاہا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دیں،اگر باندھ دیتے تو مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔

 ۱۱؎ کیونکہ وہ آسمان کے رہنے والے فرشتے تھے تلاوت سننے  اور قاری سے قرب حاصل کرنےیہاں آئے تھے،تلاوت بند ہوجانے پر اپنے مقام پر چلے گئے، زمینی فرشتے نہ تھے  کہ نیچے آتے اگرچہ فرشتے  آسمان پر رہتے ہوئے زمین والوں کی آواز سن لیتے ہیں مگر قربت حاصل کر نے کے لیے ایسی مجلس خیر میں آتے ہیں نعت خواں ایک شعر پڑھا کرتے ہیں۔شعر

فرشتے محفل میلاد میں رحمت کے آتے ہیں	رسول اﷲ خود اس بزم میں تشریف لاتے ہیں

شعر کا ماخذ یہ حدیث ہے مجلس ذکر میں اب بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا بہت سی روایات سے ثابت ہے دیکھو ہمار ی کتاب"جاءالحق"حصہ اول۔
Flag Counter