۱؎ یعنی جو مسلمان قرآن کر یم کو صحیح طرح سمجھیں صحیح طرح عمل کریں تو وہ دنیا و آخرت میں بلند درجے پائیں گے اور جو اس سے غافل رہیں،یا غلط طرح سمجھیں،غلط طور پر عمل کریں وہ دنیا و آخرت میں ذلیل ہوں گے،قرآن کریم سے زندگی و موت طیب ہوتی ہے یہ محبوبین کے لیے ماء( پانی) ہے،اور محجوبین کے لیے دماء (خون) ہے،اب بھی قرآن پاک کے صحیح متبع بڑی عظمت عزت کے مالک ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"شِفَآءٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ وَ لَایَزِیۡدُ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا خَسَارًا"۔حضرت عمر نے ابن ابزی غلام کو مکہ معظمہ کا حاکم بنایا لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ یہ اگرچہ غلام ہے مگر قرآن کا ماہر ہے۔