Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
340 - 5479
حدیث نمبر 340
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مؤمن کی مثال جو قرآن پڑھا کرتا ہے ترنج کی سی ہے ۱؎ جس کی خوشبو بھی اچھی اور لذت بھی اعلیٰ ۲؎ اور اس مؤمن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا چھوارے کی سی ہے جس میں خوشبو کوئی نہیں مزا میٹھا ہے۳؎ اور اس منافق کی مثال جو قر آن نہیں پڑھتا،اندرائن(تمہ)کی سی ہے جس میں خوشبو کوئی نہیں اور مزا کڑوا ۴؎ اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان گھاس کی سی ہے جس کی خوشبو اچھی اور مزہ کڑوا ۵؎(مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں یوں ہے کہ وہ مؤمن جو قرآن پڑھے اور اس پر عمل کرے ترنج کیطرح ہے ۶؎ اور وہ مؤمن جو قرآ ن پڑھے تو نہیں اس پر عمل کرے چھوارے کی طرح ہے ۷؎
شرح
۱؎ یعنی تلاوت قرآن کرتا رہتا ہے منزل نہیں چھوڑتا،معلوم ہوا کہ ہمیشہ تلاوت قرآن کرنا بہت بڑی عبادت ہے خواہ معنے سمجھے یا نہ سمجھے،ترنج عرب کا مشہور پھل ہے جس کا ر نگ بہت اچھا ہوتا ہے خوشبو نہایت اعلیٰ مزہ بہت بہترین،دماغ اور معدہ کو بہت قوت دیتا ہے اس کے بہت فوائد کتب طب میں مذکور ہیں۔

۲؎ یہ ہی اس مؤمن کا حال ہے کہ لوگ اس کی تلاوت سے ایمانی لذت بھی حاصل کرتے ہیں اور ثواب بھی خود اسے بھی لذت و ثواب دونوں ملتے ہیں،قرآن شریف بہت ہی لذیذ چیز ہے۔

 ۳؎ ایسے ہی یہ غافل مسلمان ہے کہ اس کا ظاہر خاص اچھا نہیں مگر باطن نور ایمانی سے منور ہے لوگ اس سے ظاہری فائدہ نہیں اٹھاتے مگر اس کی صحبت سے کچھ نہ کچھ باطنی فیض پالیتے ہیں مؤمن کی صحبت بھی اچھی ہے۔

 ۴؎ اندرائن ایک مشہور کڑوا پھل ہے جس میں کسی قسم کی بو نہیں اور سخت کڑوا ہوتا ہے،منافق کا نہ ظاہر اچھا نہ باطن۔

 ۵؎ یعنی بے دین جو ریاء کے لیے یا مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے قرآن پڑھے،اگر چہ خود تو بدمزہ ہے کہ منافق ہے مگر اس کی تلاوت سے سننے والوں کو کچھ نہ کچھ راحت ضرور مل جاتی ہے،جیسے ریحانہ گھاس(نیازبو) کہ ہے تو بدمزہ مگر اس کی خوشبو سے دماغ ضرور معطر ہوجاتا ہے۔ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ تلاوت قرآن کا اثر ظاہر و باطن میں ہوتا ہے کہ اس سے زبان، کان،دل،دماغ ایمان سب ہی تازہ ہوتے ہیں۔دوسرے یہ کہ قرآن پاک کی تاثیر یں مختلف ہیں جیسے پڑھنے والے کی زبان ویسے ہی تاثیر قرآن حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اﷲ علیہ نے انڈے پر"قل ھو اﷲ"پڑھ کر دم کردیا تو سونا ہوگیا،اور فرمایا کہ کلام ربانی کے ساتھ زبان فرید ہونی چاہیے دیکھو یہاں مؤمن ومنافق کی تلاوتوں میں فرق فرمایا گیا پھر جیسا مؤمن ویسی ہی تلاوت کی تاثیر ۔تیسرے یہ کہ ہر تلاوت قرآن کرنے والے سے دھوکہ نہ کھاؤ ان میں کبھی منافق بھی ہوتے ہیں،قرآن کریم ریڈیو کی پیٹی ہے، تلاوت والے کے دل کی سوئی اگر شیطان کیطرف لگی ہوئی ہے تو اس کے سامنے تو قرآن ہوگا مگر اس کے منہ سے شیطان بولے گا اور اگر دل کی سوئی مدینہ پاک کی طرف ہے تو ان شاءاﷲ زبان سے مدینہ کے فیضان نکلیں گے۔

۶؎ مرقات نے فرمایا کہ جس گھر میں ترنج ہو وہاں جنات نہیں آتے ایک شاعر کہتا ہے۔

کانكم شجر الا ترجّ طالب معا			حملا ونورًا وطاب العود والورق

۷؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن کی تلاوت بھی مستقل عبادت ہے اور اس پر عمل مستقل نیکی محبوب کا پیغام،وطن کا خط پڑھنے،سننے میں بھی مزہ آتا ہے اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ تلاوت قرآن محض بے کار ہے قر آن عمل کے لیے ہے نہ کہ پڑھنے کے لیے کیونکہ دوا کھانے پینے اور برتنے کے لیے ہوتی ہے محض نسخہ پڑھ لینے سے شفا نہیں ہوتی،ان بے وقوفوں کو خبرنہیں کہ بعض دواؤں کا سونگھنا مفید ہوتا ہے بعض کا محض دیکھنا فائدہ مند،سبزہ دیکھنے سے آنکھ کی روشنی بڑھتی ہے اور بعض دواؤں کے سننے سے فائدہ ہوتا ہے،بیمار عشق کے لیے محبوب کا ذکر سننا بہت مفید دوا ہے لیموں یا ترش چیزوں کا ذکر کرو تو منہ میں پانی بھر جاتا ہے۔
Flag Counter