۱؎ یہاں حسد بمعنی غبطہ،رشک ہے حسد تو کسی پر جائز نہیں نہ دنیا دار پر نہ دین دار پر شیطان کو حضرت آدم علیہ السلام پر حسد ان کی دینی عظمت پر ہوا تھا نہ کہ دنیاوی مال و دولت پر مگر مارا گیا حسد کے معنی ہیں دوسرے کی نعمت پر جلنا اور اس کا زوال چاہنا،رشک کے معنے ہیں دوسرے کی سی نعمت اپنے لیے بھی چاہنا دینی چیزوں میں رشک جائز ہے۔
۲؎ یعنی عالم دین ہو دن رات نمازیں پڑھتا ہو قرآن پر عمل کرتا ہو ہر وقت اس کے مسائل سوچتا ہو،اس میں غور و تامل کرتا ہو،یقوم میں یہ سب کچھ داخل ہے۔مبارک ہے وہ زندگی جو قرآن و حدیث میں تامل و غور کرنے میں گزر جائے اور مبارک ہے وہ موت جو قرآن و حدیث کی خدمت میں آئے اﷲ نصیب کرے۔شعر
نکل جائے دم تیرے قدموں کے نیچے یہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے
انسان جس شغل میں جئے گا اسی میں مرے گا اور ان شاءاﷲ اسی میں اٹھے گا بعض صحابہ کرام قبر میں بھی سورۂ ملک پڑھتے سنے گئے جیسا کہ مشکوۃ شریف میں آئے گا۔
۳؎ چونکہ خفیہ خیرات علانیہ خیرات سے افضل ہے،اس لیے یہاں رات کا ذکر دن سے پہلے ہوا یعنی وہ مالدار خفیہ بھی خیرات کرے اور علانیہ بھی،خیال رہے کہ سنت کی نیت سے اپنے اور اپنے بال بچوں پر خرچ کرنا بھی اسی میں داخل ہے۔