۱؎ قرآن کریم کا ماہر وہ عالم ہے جو الفاظ قرآن،معافی ورسائل قرآن اسرار و رموز قرآن کا واقف ہو،اس کا بڑ ا درجہ ہے۔
۲؎ شیخ نے فرمایا کہ یہاں سفرہ سے فرشتوں کی جماعت مراد ہے اور کرام بررۃ سے انبیاء کرام مقصود ۔مرقات نے فرمایا کہ یہ تینوں صفتیں فرشتوں کی ہیں۔سَفَرَہ یا تو سَفَر سے بنا ہے یعنی سفر کرتے رہنے والے فرشتے جو ہمیشہ حق تعالٰی اور رسولوں کے درمیان آتے جاتے رہتے ہیں وحی وغیرہ کے لیے یا سِفْرٌ سے بنا بمعنی کتاب،جس کی جمع اسفار ہے"یَحْمِلُ اَسْفَارًا"یعنی وہ فرشتے جو لوح محفوظ سے مضامین صحیفوں میں نقل کرتے رہتے ہیں یا کاتبین اعمال فرشتے یا سفار بمعنی اصلاح سے بنا یعنی وہ فرشتے جو رب تعالٰی کی طرف سے بندوں پر مصلحت و رحمت کی خبر یں لاتے ہیں چونکہ یہ فرشتے اول درجہ کے مقرب بارگاہ الٰہی ہیں اور گناہوں سے بہت ہی پاک و صاف اس لیے ان کے یہ تین لقب ہوئے قرآن کریم کا عالم ان فرشتوں اور نبیوں کا سا کام کرتا ہے اس لیے اس کا حشر بھی انہیں جماعتوں کے ساتھ ہوگا۔ معلوم ہوا کہ قیامت میں اچھوں کا ساتھ اﷲ تعالٰی کی بڑی نعمت ہے۔شعر
گر محمد کا ساتھ ہوجائے پھر تو سمجھو نجات ہوجائے
بعض نے فرمایا کہ یہ تینوں صفتین صحابہ کرام کی ہیں کہ انہوں نے قرآن جمع بھی کیا اور وہ اﷲ کے ہاں مقبول اور گناہوں سے محفوظ بھی ہیں مرقات۔
۳؎ سبحان اﷲ! عالم بالقرآن کا تو وہ مرتبہ ہے جو ابھی ذکر ہوا اور جو کند ذہن،موٹی زبان والا قر آن پاک سیکھ تو نہ سکے مگر کوشش میں لگا رہے کہ مرتے دم تک کوشش کئے جائے وہ ڈبل ثواب کا مستحق ہے،شوق محنت۔خیال رہے کہ یہ دوگنا ثواب عالم قرآن کے مقابلہ میں نہیں ہے،عالم قر آن تو فرشتوں نبیوں اور صحابہ کے ساتھ ہے بلکہ اس کے مقابلہ میں جو بے تکلف قرآن پڑھ کر بس کردے۔