| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تم میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر لوٹے تو وہاں تین حاملہ بڑی اور موٹی اونٹنیاں پائے ۱؎ ہم نے عرض کیا ہاں فرمایا تو تین آیتیں جنہیں کوئی اپنی نماز میں پڑھ لے ۲؎ وہ اسے تین حاملہ بڑی اور موٹی اونٹنیوں سے بہتر ہیں ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی جب سفر،بازار سے گھر پہنچے تو وہاں یہ حلال دولت پائے،اہل عرب مادہ اونٹنی کو خصوصًا جب وہ حاملہ بھی ہو اونچی اورموٹی بھی بہت ہی پسند کرتے ہیں،اس لیے یہ مثال ارشاد ہوئی کیونکہ اونٹنی سے نسل چلتی ہے اونٹ سے نہیں چلتی اور ظاہر ہے کہ اچھی نسل کی اونٹنی کی نسل بھی اچھی ہوگی ۔ ۲؎ قرآن کریم اعلیٰ چیز ہے اور جب نماز میں پڑھا جائے تو نورٌ علیٰ نور ہے کہ نماز و قرآن کی برکتیں جمع ہوجاتی ہیں اور اگر تقدیر سے حرم مکہ یا حرم مدینہ میں نماز نصیب ہوجائے تو اس تلاوت کی برکتیں بے شمار ہو جاتی ہیں کہ تین خوبیاں جمع ہوگئیں،نماز، تلاوت،حرم کی زمین۔ ۳؎ ان اونٹنیوں کا نفع صرف دنیا میں ہے اور آیات قرآنیہ کا نفع دنیا میں بھی آخرت میں بھی اور فانی سے باقی بہتر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ دنیاوی مال میں مشغول ہو کر آخرت سے لاپرواہ نہ ہوجائیے،یہ مطلب نہیں کہ دنیا بالکل چھوڑ دو کہ اسلام میں ترک دنیا منع ہے بلکہ جو دنیا دین کمانے کا ذر یعہ ہو وہ بھی دین ہے۔